صوبہ سندھ سے تعلق رکھنے والے وہ کرکٹر جنہوں نے بائیں اور دائیں دونوں ہاتھوں سے اسپن باؤلنگ کرنے کی منفرد صلاحیت اپنائی مگر سلیکٹرز نے انہیں قومی ٹیم تک رسائی نہ دی۔ کفیل احمد صدیقی جنہیں کفیل بھائی جنہیں کہا جاتا تھا گزشتہ روز کراچی کے ایک نجی اسپتال میں انتقال کرگئے۔
1958 میں سندھ کے ضلع گھوٹکی میں پیدا ہونے والے کفیل بھائی نے کرکٹ میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا جہاں انہوں نے دونوں ہاتھوں سے بالنگ کرنا سیکھا۔ ان کا خواب تھا کہ وہ پاکستان کی کرکٹ ٹیم میں شامل ہو کر ایک اننگز میں بیس وکٹیں حاصل کریں لیکن بدقسمتی سے سلیکٹرز کی نظر سے اوجھل رہ گئے اور وہ قومی سطح تک نہ پہنچ سکے۔ اس ناکامی کے باوجود کفیل بھائی نے ہار نہیں مانی اور اپنے فن کو نئی شکل دی۔

کفیل بھائی نے قومی شاہراہوں پر سفر کرنے والے ٹرکوں کی پچھلی دیواروں کو اپنی تخلیقات سے مزین کیا جہاں انہوں نے نہایت منفرد انداز میں کفیل بھائی کو سلام کے نعرے اور دیگر جملے لکھے جو آج بھی پرانے ٹرکوں پر دیکھے جا سکتے ہیں۔ ان کے اس منفرد فن نے انہیں نہ صرف گھوٹکی بلکہ پورے پاکستان میں مشہور کر دیا۔ چاہے وہ ٹرک ہو، تانگہ، سائیکل ہر جگہ کفیل بھائی کے نعرے نظر آتے تھے۔
کفیل بھائی دونوں ہاتھوں سے خطاطی اور پینٹنگ کرسکتے تھے اور وہ یہ کام آئینے میں یا اُلٹ کر بھی بڑے ماہر انداز میں کرتے تھے۔ وہ کبھی اپنے فن کا معاوضہ طلب نہیں کرتے تھے بلکہ اگر لوگ خوش ہوتے تو اپنی مرضی سے رقم ان کے حوالے کر دیتے۔
ان کی شہرت یہاں تک پہنچی کہ فرانس کی ایک ٹیم نے انہیں اپنے ہوائی جہازوں پر پینٹنگ کرنے کی دعوت دی مگر کفیل بھائی نے شرط رکھی کہ ہر جہاز پر ان کا نعرہ بھی لکھا جائے۔ اس شرط کو مسترد کر دیا گیا اور کفیل بھائی نے فرانس میں کام کرنے سے انکار کر دیا کیونکہ وہ صرف پاکستان کے لیے کام کرنا چاہتے تھے۔
کفیل بھائی کی زندگی میں کچھ ایسے بھی واقعات پیش آئے جب انہیں ڈاکوؤں نے اغوا کیا، مگر ان کی شہرت اور پہچان کی بدولت وہ محفوظ رہ سکے۔ ڈاکوؤں نے اپنے ہتھیاروں پر بھی اپنے نام اور کفیل بھائی کو سلام کا نعرہ لکھوایا۔
گزشتہ چند دہائیوں میں کفیل بھائی کی گمشدگی نے ان کی یادوں کو اور بھی زیادہ پراسرار بنا دیا۔ ان کے چاہنے والے انہیں دوبارہ دیکھنے کے خواہشمند ہیں اور امید کرتے ہیں کہ کہیں وہ کہیں اپنی فنکارانہ زندگی گزار رہے ہوں گے۔

کفیل بھائی نے اپنی زندگی کا اختتام کراچی میں کیاجہاں وہ 2002 سے مقیم تھے اور فرنیچر کا کام کرتے تھے۔ ان کی وفات سے پاکستان ایک منفرد فنکار اور کرکٹر کو کھو بیٹھا ہے جنہوں نے اپنی صلاحیتوں اور جذبے سے ہمیشہ لوگوں کے دلوں میں جگہ بنائی۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








