راولپنڈی:ٹرانسپورٹ اتھارٹی کے سیکرٹری کی دفتر میں اپنی سیٹ پر عدم موجودگی سائلین کے لئے مشکلات میں اضافے کا باعث بن گئی۔
مکمل کاغذات اور دیگر سامان لے کر آنے والے سائلین کو بھی کئی کئی دنوں تک گاڑیاں واپس نہیں کی جاتیں اور دفتر کے چکر لگوائے جاتے ہیں، ذرائع کا کہنا ہے کہ شہریوں اور ٹرانسپورٹرز کو تنگ کرنے کی اصل وجہ اور مقاصد کی تکمیل کے لیے مبینہ طور پر جان بوجھ کر گاڑیوں کے مالکان کو معمولی باتوں کو بنیاد بنا کر گاڑیاں بند کر دی جاتی ہیں۔
گاڑیوں کی واپسی سپرداری کے لیے آنے والوں کو سیکریٹری مہر قیوم اے کے دستخطوں کے بغیر نہیں ہوسکتی اور سیکرٹری کئی کئی روز دفتر میں نہیں آتے جس کی وجہ سے ٹرانسپورٹرز کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
گاڑیوں کے مالکان ڈرائیورز اور کنڈکٹرز کا کہنا ہے کہ کورونا کی وجہ سے پہلے ہی کاروبار زندگی بری طرح متاثر ہوچکاہے ڈر اور خوف کی وجہ سے لوگوں نے پبلک ٹرانسپورٹ میں سفر کرنا بند کر دیا ہے کوئی پرسان حال نہیں اور مشکل حالات میں بھی ٹرانسپورٹ اتھارٹی کا عملہ ان کو بلاجواز تنگ کرتے ہوئے گاڑیاں بند کر دیتا ہے اور گاڑیوں کی واپس سپر داری کے لیے دفتر کے بار بار چکر لگوائے جاتے ہیں۔
سیکرٹری کی عدم دستیابی کی وجہ سے ان کو گاڑیاں نہیں دی جاتیں جبکہ ذرائع کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ مبینہ طور پر عملے کو خوش کرنے والے ٹرانسپورٹرز کو ان کی گاڑیاں دی جاتی ہیں اور جن سے تعلقات نہیں بن پاتے ان کو عبرت کا نشان بنا نے کیلئے بار بار دفتر کے چکر لگائے جاتے ہیں۔
اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل کے لیے پبلک ٹرانسپورٹرز کو بہت مہارت کے ساتھ غیر محسوس انداز میں تنگ کرنے کا سلسلہ جاری ہے، 22دسمبر کو دن بارہ بجے کے قریب روٹ نمبر21 سے سیکرٹری آر ٹی اے کے احکامات پر بیس سے زائد گاڑیوں کو یہ کہتے ہوئے پکڑ لیا گیا کہ ان کے خلاف اڈہ مالک نے شکایت کی تھی اور الزام لگایا کہ یہ گاڑیاں روٹ مکمل نہیں کر پا رہی ہیں جبکہ پکڑی جانے والی متعدد گاڑیوں کے پاس اڈے کی پرچی اور دیگر کاغذات مکمل تھے۔
مالکان کو راضی کرنے اور مبینہ مالی مقاصد کی تکمیل کے گاڑیوں کو پکڑتے ہوئے بند کر دیا گیا اور دو دن تک تحویل میں رکھنے کے بعد 23 دسمبر کو شام چھ بجے کے قریب فی گاڑی 2ہزار چالان اور ذرائع کے مطابق مبینہ نذرانے وصول کرنے کے بعد چھوڑ دیا گیا۔
کورونا کی دوسری لہر کی وجہ سے مصیبت کی اس گھڑی میں مزدوری کرنے والے روزانہ کام کرتے ہیں اور بچوں کے لیے خوراک کا انتظام کرتے ہیں لیکن دو دن گاڑیاں بند رہنے کی وجہ سے مالکان کا کہنا ہے کہ ان کا بہت نقصان ہو گیا ہے اور ڈرائیور اور کنڈیکٹر وں کو ان کی اجرت نہ دیے جانے کے سبب ان کے لئے بچوں کو دو وقت کی روٹی لینا مشکل ہو گیا ہے۔
اس ضمن میں اصل حقائق جاننے کے لیے سیکرٹری آر ٹی اے مہر قیوم آباد سے رابطہ کیا تو ان کا کہنا تھا کہ ان کے خلاف شکایت تھی اور ان کو دو دن کے بعد گاڑیاں واپس کر دی گئی ہیں،اس کے ساتھ ہی ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ آئندہ جن کے پاس اڈے کی پرچیاں ہوں گی ان کو نہیں پکڑا جائے گا۔