قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں بھارت کی جانب سے رات کے اندھیرے میں کیے گئے بزدلانہ حملے کی سخت مذمت کرتے ہوئے پاک فوج کو جوابی کارروائی کے لیے مکمل اختیار دےدیا گیا ہے۔
وزیراعظم شہبازشریف کی زیر صدارت ہونے والے قومی سلامتی کمیٹی کے ہنگامی اجلاس کا اعلامیہ جاری کردیا گیا ہے۔اعلامیہ میں کہا گیا کہ پاکستان امن کا خواہاں ہے۔
اعلامیہ کے مطابق اجلاس میں بھارت کی بلا اشتعال، بزدلانہ اور جنگی اقدام کی صورتحال پر غور کیا گیا جبکہ اجلاس میں شہدا کے لئے فاتحہ خوانی اور شہدا کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت اور زخمیوں کی صحت یابی کی دعاکی گئی۔
اعلامیہ کے مطابق بھارت کے اقدام بین الاقوامی قانون کے تحت واضح طور پر جنگی اقدامات کے زمرے میں آتے ہیں،بھارت فوج کی جانب سے معصوم شہریوں، خصوصاً خواتین اور بچوں کو نشانہ بنانا انسانیت کے خلاف جرم ہے،بھارتی اقدام بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہے۔
اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان امن کا خواہاں ہے مگر ملکی سالمیت پر کوئی آنچ نہیں آنے دیں گے، عالمی برادری بھارتی جارحیت کا نوٹس لے۔
وزیراعظم کی زیر صدارت قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس 2 گھنٹے تک جاری رہا جس میں اعلیٰ فوجی حکام، وزرا اور دیگر اہم شخصیات شریک ہوئیں۔
اعلامیہ میں کہا گیا کہ قومی سلامتی کمیٹی کی بھارتی غیرقانونی اقدامات کی شدید مذمت کرتی ہے جبکہ بھارتی اقدام پاکستان کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا گیا۔
اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان امن کا خواہاں ہے مگر ملکی سالمیت پر کوئی آنچ نہیں آنے دیں گے، عالمی برادری بھارتی جارحیت کا نوٹس لے۔
قومی سلامتی کمیٹی کے اعلامیہ میں بھارت کی جانب سے کیے گئے غیر قانونی اقدامات کی سخت مذمت کرتے ہوئے بھرپور جوابی کارروائی کے عز کا اعادہ کیا گیا۔
اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ بھارت کے ہر حملے کا جواب وقت، جگہ اور طریقہ کار خود منتخب کریں گے،مسلح افواج کو مکمل جوابی کارروائی کا اختیار دیدیا گیا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








