برطانوی اخبار دی گارڈین نے ایک دستاویزی فلم جاری کی ہے جس میں اسرائیل میں کام کرنے والے فلسطینی ڈاکٹروں کو درپیش پیچیدہ حقیقت کا سراغ لگایا گیا ہے جو غزہ جنگ کے دوران منظم امتیازی سلوک، گہری ہوتی شناختی جدوجہد اور بڑھتی ہوئی دشمنی سے گزر رہے ہیں۔
بائیس منٹ دورانیے کی اس دستاویزی فلم کا عنوان ہے: “The Oath: To Be a Palestinian Doctor in Israel’s Health Care System”۔
العربیہ کے مطابق یہ اسرائیل میں مقیم اور کام کرنے والی فلسطینی خاتون ڈاکٹر لینا قاسم حسن کی کہانی بیان کرتی ہے جو غزہ جنگ کے دوران اسرائیلیوں اور فلسطینیوں دونوں کے علاج کے لیے اپنا طبی حلف برقرار رکھے ہوئے ہیں۔
انہوں نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ اگرچہ اسرائیلی ڈاکٹروں کی تقریباً ایک چوتھائی تعداد عرب شہریوں پر مشتمل ہیں لیکن کئی لوگوں کو رسائی اور مواقع میں غیر مساوی سلوک کا سامنا ہے۔ معالج نے کہا کہ وہ اپنے پیشہ ورانہ حلف کو ناانصافی کے خلاف لڑنے کی غرض سے استعمال کرنے کے لیے پرعزم ہے۔
“سات اکتوبر کے بعد سے اسرائیل کے نظامِ صحت میں فلسطینی عملے کو ظلم و ستم، بہتان اور مشکلات کا سامنا ہے۔ فلسطین مخالف جذبات حتیٰ کہ مریضوں اور ساتھیوں میں بھی بڑھ رہے ہیں،” قاسم حسن نے دی گارڈین میں اپنی آراء کا اظہار کیا۔
انہوں نے ذکر کیا کہ مغربی کنارے میں غیر قانونی آبادیوں کی توسیع سے متعلق اسرائیلی پالیسیاں، جبری نقلِ مکانی اور نقل و حرکت پر پابندی سے منظم نگہداشت تک رسائی محدود ہو جاتی ہے جن سے اسرائیل اور مقبوضہ علاقوں دونوں میں فلسطینیوں کے حقِ صحت کو نقصان پہنچتا ہے۔
یہ اثر غزہ جنگ سے مزید بڑھ گیا ہے جہاں سات اکتوبر سے کم از کم 1,581 ہیلتھ ورکرز ہلاک ہو چکے ہیں۔ اقوامِ متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق نظامِ صحت کی وسیع پیمانے پر تباہی کے درمیان غزہ کے 36 ہسپتالوں میں سے صرف 18 جزوی طور پر فعال ہیں جس کے وجہ سے طبی سامان اور عملے کی شدید قلت کے درمیان مریض علاج تک رسائی سے محروم ہیں۔
اس دستاویزی فلم میں ڈاکٹر قاسم حسن کے ایک عزیز اور طبی کارکن مروان کی موت کا ذکر ہے جو جنگ شروع ہونے کے چند گھنٹے بعد زخمیوں کو ہسپتال منتقل کرتے ہوئے ایک فضائی حملے میں ہلاک ہو گئے تھے۔ ہفتوں بعد ایک مہاجر کیمپ پر ایک اور حملے میں ان کے خاندان کے مزید 10 افراد کی جان چلی گئی۔
ڈاکٹر قاسم حسن نے کہا، “یہ سب اسرائیلی نظامِ صحت اور میرے کئی ساتھی ڈاکٹروں کی خاموشی کے باعث ہوتا ہے جو اکثر بنیادی اور پیشہ ورانہ اخلاقیات کی بنا پر خاموشی اختیار کر لیتے ہیں۔”
فزیشنز فار ہیومن رائٹس – اسرائیل نامی تنظیم کی سربراہ کے طور پر قاسم حسن نے تفصیل سے بتایا کہ کس طرح اس وکالت سے انہیں معطلی یا ایذا رسانی کا خطرہ لاحق ہوتا ہے۔
اس سال کے شروع میں مریضوں نے مبینہ طور پر فلسطینیوں کے حامی خیالات کی وجہ سے ان کے خلاف شکایات کیں۔ اس کے باوجود انہوں نے خاموش رہنے سے انکار کر دیا۔
انہوں نے لکھا، “متأثرین یعنی خواتین، بچوں اور معصوم شہریوں کے لیے ہمدردی کا کوئی بھی اظہار دہشت گردی کی حمایت سمجھا جاتا ہے۔ مگر پھر بھی میں جدوجہد کر رہی ہوں۔ کیونکہ جب تک ہم خاموش رہیں گے، ہمارا حلف کھوکھلا رہے گا اور اس سے حقِ صحت ایک ایسا تصور بن جاتا ہے جس تک پہنچنا بہت مشکل ہو۔”
اسرائیل میں رہنے یا اسے چھوڑ دینے کے فیصلے کی کشمکش کے درمیان قاسم حسن نے عکاسی کی: “لیکن میں اس سوال کی طرف واپس آتی ہوں کہ اگر میں چلا گئی تو پیچھے کون رہ جائے گا؟”
فی الحال وہ فلسطینیوں اور مغربی کنارے اور غزہ میں زیرِ حراست افراد کو فزیشن فار ہیومن رائٹس – اسرائیل کے ذریعے ضروری طبی نگہداشت فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہیں جبکہ اسرائیل کے اندر اور بین الاقوامی پلیٹ فارمز پر بھی وہ غزہ جنگ کے خلاف بات کرتی ہیں جیسا کہ فلم میں دکھایا گیا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








