وہ 24 اپریل کا دن اور خون میں بھیگی ہوئی دوپہر کا وقت تھا۔ غزہ کے یرموک کیمپ میں مقیم فرج خاندان پر اسرائیلی طیارے نے ایسا خوفناک بم برسایا کہ انسانوں کے چیتھڑے دور دور تک بکھر گئے تھے۔ جلے ہوئے گوشت کی بو ہر سو پھیلی ہوئی تھی۔
اس حملے میں اس بدقسمت خاندان کے تمام افراد شہید ہوگئے، تاہم ایک خاتون معجزانہ طور پر بچ گئی تھی۔ بمباری کے بعد راکھ کی چادر اور دھویں کے بادل چھٹ گئے تو متاثرہ گھر کے پڑوس کی چھت سے ایک نحیف سی آواز سنائی دینے لگی۔
جب امدادی کارکن وہاں گلابی لباس پہنے ایک چھوٹے بچے کا صرف آدھا جسم دکھائی دے رہا تھا۔ وہ بھی راکھ، خون اور دھول سے لت پت تھا۔ اس کے ساتھ 7 سال سے کم عمر کا ایک معصوم بچہ علی فرج بھی زخمی حالت میں موجود تھا۔ امدادی کارکنوں نے اس کی کمزور آواز سنی جو فریاد کر رکھا تھا۔
اس بچے کو معلوم نہیں تھا کہ اس کے ساتھ کیا ہوا اور کیوں ہوا، وہ یہ بھی نہیں جانتا تھا کہ وہ اپنے گھر سے پڑوس کی چھت تک کیسے پہنچ گیا۔ مگر جو بھی ہوا، اس نے علی فرج کے لیے سب کچھ بدل کے رکھ دیا تھا۔ اس کے سر سے خون بہہ رہا تھا۔ مگر میزائل کی طاقت سے فضا میں اڑ کر پڑوس کی چھت پر گرنے کے باوجود وہ معجزاتی طور پر بچ گیا تھا۔
علی کو امدادی کارکنوں نے کویتی اسپتال منتقل کر دیا، جہاں زیر علاج علی کی والدہ نسیبہ خاتون اس سانحے کو بیان کرنے کے لیے الفاظ کی تلاش میں ہیں۔ نسیبہ کہتی ہیں کہ میرا پورا خاندان اور سب کچھ اجڑ گیا۔ میرا شوہر، میرے بچے، میرے بھائی اور اس کے بچے، میری بہن اور اس کے بچے سب شہید کر دیئے گئے۔ صرف علی فرج ہی زندہ بچ گیا ہے، اسے دھماکے کی طاقت وشدت نے پڑوسیوں کی چھت پر پھینک دیا تھا۔
علی کی والدہ کا کہنا ہے کہ ہمیں یقین نہیں آرہا تھا کہ وہ ابھی تک زندہ ہے”۔ اسپتال کے بیڈ پر پڑے علی فرج کی دکھ بھری اور تھکی ہوئی آواز ناقابل فراموش ہے۔ علی قیامت کی اس گھڑی کو کیسے بھلا سکتا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ “میں اپنے والد کے ساتھ تھا۔ اچانک بہت زور دار دھماکہ ہوا۔ سب کچھ ہوا میں اڑ گیا، مجھے نہیں معلوم کہ کیا ہوا۔ میں گر گیا۔ پھر میں نے خود کو یہاں چھت پر پایا، میرا سر درد کر رہا تھا۔”
علی کی دہشت زدہ آنکھیں وہ کہانی بیان کر رہی ہیں، جسے بیان کرنے سے زبان قاصر ہے۔ جمعرات کو جب علی فرج کی تصویر اور دردناک ویڈیو منظر عام پر آئی وہ سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی۔ صارفین نے دکھ بھرے تبصروں کے ساتھ اسے شیئر کیا۔
الجزیرہ کے نامہ نگار انس الشریف کا کہنا تھا کہ علی فرج شمالی غزہ میں اسرائیلی فوج کے ہاتھوں ہونے والے قتل عام میں معجزانہ طور پر بچ گیا، اس کا والد، پانچ بہنیں اور بھائی شہید ہوگئے، جبکہ اس کی والدہ شدید زخمی ہیں۔
غزہ میں دکھ اور درد بھری ایسی بے شمار داستانیں ہر سو بکھری ہوئی ہیں، جنہیں تاریخ میں انسانیت دشمن صہیونیت کے جرائم کی طویل فہرست میں ایک سیاہ باب کے طور پر درج کیا جائے گا۔
واضح رہے کہ فرج خاندان پر ہونے والے اس حملے میں انتہائی طاقتور اور مہلک بم استعمال ہوئے۔ جنہوں نے بچوں کے جسموں کو بالائی منزلوں تک اچھال دیا۔ اس المناک واقعے کے بعد یرموک محلہ خاموشی میں ڈوب گیا۔ ایک ایسا علاقہ جو جنگوں کا عادی ہو چکا ہے، مگر بچوں کی اموات کے صدمے کا اب بھی عادی نہیں ہو سکا۔
18 مارچ سے اسرائیلی جارحیت کے دوبارہ آغاز کے بعد، خواتین اور بچے سب سے زیادہ نشانہ بنے ہیں۔ پچھلے چند مہینوں میں غزہ میں 17 ہزار سے زائد بچے شہید ہو چکے ہیں، جبکہ 33 ہزار زخمی ہوئے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








