ڈاکٹر وردہ کے اغواء کی اصل کہانی! دوست نے کیوں کیا یہ خوفناک کام؟ جانیں ایبٹ آباد واقعے کی پریشان کن تفصیلات

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ آن لائن)

خیبر پختونخو کے معروف سیاحتی شہر ایبٹ آباد کے ڈی ایچ کیو اسپتال سے لاپتہ ہونے والی ڈاکٹر وردہ مشتاق کی لاش لڑی بنوٹہ ٹھنڈیانی کے جنگلات سے برآمد ہونے کے بعد پورے علاقے میں غم و تشویش کی فضا قائم ہو گئی ہے۔ پولیس نے موقع پر پہنچ کر لاش کو قبضے میں لے لیا ہے اور شناخت و فرانزک رپورٹس کا عمل جاری ہے۔ ابتدائی شواہد اور ملزمان کے اعترافات سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ لاش ڈاکٹر وردہ کی ہی ہے۔

ڈاکٹر وردہ چند روز قبل اسپتال سے اپنی قریبی دوست کے ساتھ روانہ ہوئی تھیں اور ان کے پاس 67 تولہ سونا امانت میں موجود تھا۔ پولیس نے اغواء کی مرکزی ملزمہ ردا، اس کے شوہر وحید بلا اور ایک سہولت کار ندیم کو گرفتار کر لیا ہے جبکہ باقی ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے اور تلاشی جاری ہے۔

پولیس کی ابتدائی کارکردگی پر سنگین سوالات

ابتدائی تحقیقات میں سامنے آیا ہے کہ تھانہ کینٹ کے سابق ایس ایچ او نے مرکزی ملزمہ ردا اور اس کے شوہر کو فوری طور پر رہا کر دیا تھا اور ڈی پی او کو بھی دو دن تک کیس سے لاعلم رکھا گیا جس پر شدید تنقید کی جا رہی ہے۔

ڈی پی او کی مداخلت کے بعد ملزمان کو دوبارہ گرفتار کیا گیا اور تحقیقات میں ردا نے بتایا کہ وہ ڈاکٹر وردہ کو اپنی گاڑی میں ڈی ایچ کیو سے جدون پلازہ کے ایک گھر تک لے گئی جہاں خطرناک منشیات فروش اور ڈاکو موجود تھے۔

ملزمہ کے بیان کے مطابق ڈاکٹر وردہ کو ندیم اور گینگ کے سرغنہ شمریز نے سوزوکی میں لے جا کر نامعلوم مقام پر منتقل کیا۔ نواں شہر پولیس نے ندیم کو گرفتار کیا اور اس کی نشاندہی پر تھنڈیانی کے جنگلات میں بڑے پیمانے پر سرچ آپریشن جاری ہے۔ پولیس کا اندازہ ہے کہ ڈاکٹر وردہ کو قتل کیا گیا ہے۔

ڈاکٹرز اور پیرا میڈیکل اسٹاف کا احتجاج

ڈاکٹر وردہ کی افسوسناک واقعے میں موت کے خلاف ڈاکٹرز ایسوسی ایشن نے شدید احتجاج کا اعلان کیا ہے اور ایبٹ آباد کے ڈی ایچ کیو اسپتال میں تمام طبی خدمات بند کر دی گئی ہیں۔ ہری پور میں بھی ڈاکٹرز اور پیرا میڈیکل اسٹاف کا احتجاج جاری ہے اور مظاہرین نے ڈھینڈا روڈ کو بند کر دیا ہے۔

مظاہرین نے قاتلوں کے خلاف دہشتگردی ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کرنے کے ساتھ ساتھ ڈی پی او ایبٹ آباد اور ایم ایس اسپتال کو فوری معطل کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

عوام اور اہل خانہ کی انصاف کی اپیل

ڈاکٹر وردہ کے والدین اور قریبی رشتہ دار سخت صدمے میں مبتلا ہیں اور علاقے کے لوگ انصاف کے لیے آواز بلند کر رہے ہیں۔ پولیس نے آئندہ چند گھنٹوں میں مزید اہم پیش رفت کا اعلان کیا ہے لیکن لاش کے ملنے اور جاری سرچ آپریشن نے عوام کے دلوں میں خوف اور بے چینی پیدا کر دی ہے۔

Related Posts