اسٹیٹ بینک کی مانیٹری پالیسی کمیٹی کا اجلاس 8مارچ کو ہوگا

تازہ ترین

تازہ ترین

متحدہ عرب امارات
(فوٹو: آن لائن)

کراچی: اسٹیٹ بینک کی مانیٹری پالیسی کمیٹی کا اجلاس منگل 8 مارچ کو ہوگا، جس میں رواں سال کی دوسری مانیٹری پالیسی کی منظوری دی جائے گی، جس کا اطلاق اگلے ڈیڑھ ماہ کیلئے ہوگا۔

پاکستان میں شرح سود اس وقت 9.75 فیصد ہے، آئندہ مانیٹری پالیسی میں یہ شرح برقرار رکھی جائے گی، اضافہ ہوگا یا کمی ہوگی، اس بارے میں معاشی ماہرین کی مختلف آرا سامنے آرہی ہیں تاہم بیشتر ماہرین کے مطابق شرح سود بغیر کسی تبدیلی کے برقرار رکھی جائے گی۔

ٹاپ لائن سیکیورٹیز کی جانب سے اس سلسلے میں ایک پول کا انعقاد کیا، جس کے نتائج کے مطابق 52.7 فیصد افراد نے کہا کہ شرح سود میں کوئی تبدیلی نہیں ہوگی اور 14.3 فیصد افراد کا خیال ہے کہ 25 بیسس پوائنٹس کا اضافہ متوقع ہے جبکہ 24.2 فیصد افراد کے مطابق 50 بیسس پوائنٹس اور 6 فیصد کے مطابق 50 بیسس پوائنٹس سے زائد اضافہ ہوسکتا ہے۔

اس کے مقابلے میں 1.2 فیصد افراد کا خیال ہے کہ 25 بیسس پوائنٹس کی کمی ہوسکتی ہے اور 2.4 فیصد کا خیال ہے کہ 25 بیسس پوائنٹس سے زائد بھی امکان ہے۔

عارف حبیب سیکیورٹیز کی جانب سے کرائے گئے پول کے مطابق بینکنگ، مالیاتی اداروں اور صنعتی شعبے سے تعلق رکھنے والے افراد نے حصہ لیا، جس میں رائے دینے والے 73 فیصد افراد کے مطابق شرح سود میں تبدیلی کا امکان نہیں جبکہ 27 فیصد افراد کا خیال ہے کہ 50 بیسس پوائنٹس تک اضافہ ہوسکتا ہے۔

ماہرین کے مطابق جنوری کے مقابلے میں فروری کے دوران افراط زر میں کمی آرہی ہے جبکہ جنوری کی اعلان کردہ مانیٹری پالیسی میں بھی عندیہ دیا گیا تھا کہ شرح سود میں تبدیلی کی ضرورت نہیں تاہم کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ ملکی معیشت کیلئے ایک بڑے چیلنج کے طور پر سامنے آرہا ہے۔

مزید پڑھیں:پاکستان اس سال ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے نکل جائے گا، شوکت ترین

جس کے مطابق رواں مالی سال کے ابتدائی 7 ماہ یعنی جولائی تا فروری کے دوران کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 11.6 ارب ڈالر تک پہنچ گیا ہے، جس کی وجہ سے بیرونی ادائیگیوں کا معاملہ سنگین ہوسکتا ہے اس کے علاوہ حالیہ حکومتی مراعاتی پیکیج سے مالیاتی توازن متاثر ہوسکتا ہے جس کا آئندہ مانیٹری پالیسی میں احاطہ کیا جائے گا۔

Related Posts