راولپنڈی: ایف آئی اے کے اسپیشل جوڈیشل مجسٹریٹ احمد ارشد گوندل نے توہین اہل بیت کے مقدمہ میں نامزد صحافی کے خلاف مقدمہ خارج کرنے کا حکم دیا ہے۔
عدالت نے حکم دیا کہ اگر ملزم کسی اور کیس میں مطلوب نہیں ہے تو اسے فوری طور پر رہا کیا جائے، جس پر ملزم کو عدالت سے رہا کر دیا گیا۔
تھانہ صدر اٹک پولیس نے صحافی تنویر اعوان کے خلاف ملک ارشد علی کی مدعیت میں 29 ستمبر کو تعزیرات پاکستان کی دفعات 298-A اور 298-B کے علاوہ پنجاب مینٹی نینس آف پبلک آرڈر آرڈی نینس 1960-16 کے تحت مقدمہ نمبر 380 درج کیا تھا جس میں الزام تھا کہ تنویر اعوان نے سوشل میڈیا پر توہین اہل بیت پر مبنی مواد اپ لوڈ کیا جس سے ان کی دل آزاری ہوئی ہے اور امن و مان کا خدشہ ہے۔
اس مقدمہ میں ملزم کو قبل ازیں یکم اکتوبر کو اٹک کی مجاز عدالت میں پیش کیا گیا تھا جہاں پر عدالت نے ملزم کے خلاف مقدمہ کو ایف آئی اے کا دائرہ اختیار قرار دے کر ایف آئی اے کو منتقل کر دیا تھا۔
گزشتہ روز ایف آئی اے نے ملزم کو متعلقہ عدالت میں پیش کیا اس موقع پر ایف آئی اے سائبر کرائم کے ایس ایچ او، ایف آئی اے کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر لیگل کے علاوہ تھانہ صدر اٹک کے ایس ایچ او بھی موجود تھے۔
ایف آئی اے کے تفتیشی افسر نے عدالت کے روبرو موقف اختیار کیا کہ مقدمہ کے اندراج کے لئے دی گئی درخواست کے مندرجات کے مطابق کسی بھی فرد واحد کو کسی کے خلاف تعزیرات پاکستان کی دفعہ 295-A کے تحت مقدمہ درج کرنے کا اختیار نہیں ہے، جب تک کہ وفاقی یا صوبائی حکومت کے متعلقہ حکام اس پر کوئی ہدایات جاری نہ کریں جبکہ اس کیس میں ایسی کوئی منظوری حاصل نہیں کی گئی۔
اس پر عدالت نے قرار دیا کہ اس صورتحال میں ملزم کے خلاف جو الزام عائد کئے گئے ہیں ان پر کارروائی کا کوئی جواز نہ ہے لہٰذا ملزم کو مقدمہ سے ڈسچارج کیا جائے اور اگر کسی او ر کیس میں مطلوب نہیں ہے تو اسے فوری رہا کیا جائے جس پر تنویر اعوان کو عدالت سے رہا کر دیا گیا۔