اسلام آباد: سپریم کورٹ آف پاکستان نے عدالتی اصلاحات بل پر عملدرآمد روک دیا۔
عدالت عظمیٰ کی جانب سے سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل کیس پر تحریری حکم نامہ جاری کر دیاگیا، عدالت عظمیٰ نے عدالتی اصلاحات بل کے خلاف درخواستوں پر تحریری فیصلہ جاری کیا۔
سپریم کورٹ نے ابتدائی سماعت کے بعد آج کی سماعت پر 8 صفحات پر مبنی حکمنامہ جاری کر دیا، جس کے مطابق بل پر صدر دستخط کریں یا نہ کریں دونوں صورتوں میں عملدرآمد نہیں ہو گا۔
8 رکنی لارجر بنچ نے چیف جسٹس پاکستان عمرعطا بندیال کی سربراہی میں کیس کی سماعت کی، جسٹس اعجاز الاحسن، جسٹس منیب اختر، جسٹس مظاہر نقوی، جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس عائشہ ملک، جسٹس حسن اظہر رضوی اور جسٹس شاہد وحید بنچ میں شامل ہیں۔
عدالت عظمیٰ نے مسلم لیگ (ن)، پیپلز پارٹی، جے یو آئی، ایم کیو ایم، بی اے پی، ق لیگ اور تحریک انصاف کو نوٹسز جاری کرتے ہوئے کیس کی آئندہ سماعت 2 مئی تک ملتوی کر دی۔
مزید پڑھیں:سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل کیخلاف درخواست، فریقین کو نوٹس جاری
بل کے خلاف درخواستیں ایڈووکیٹ خواجہ طارق رحیم اور دیگر نے دائر کی ہیں،سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل کے خلاف 4 درخواستیں عدالت عظمیٰ میں دائر کی گئی ہیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








