افغانستان کی طالبان حکومت نے لڑکیوں کو مخصوص شعبے میں محدود بنیاد پر اعلیٰ تعلیم کے حصول کی اجازت دے دی ہے۔
طالبان حکومت کی وزارت صحت عامہ نے اعلان کیا ہے کہ افغانستان کے گیارہ صوبوں میں بارہویں جماعت سے فارغ التحصیل لڑکیوں کو سرکاری طبی اداروں میں رجسٹر کرنے کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔
افغان وزارت صحت کے فیصلے کے مطابق کاپیسا، پکتیا، خوست اور بدخشان صوبے کے مڈوائفری انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ سائنسز نے 12 ویں جماعت کی گریجویٹ لڑکیوں کی رجسٹریشن کا عمل شروع کر دیا ہے۔
یہ پیشرفت ایسے موقع پر سامنے آئی ہے، جب افغانستان میں طالبان کی واپسی کے بعد سے لڑکیوں کو چھٹی جماعت اور اس سے اوپر کی تعلیم جاری رکھنے کی اجازت نہیں ہے، چنانچہ وزارت صحت کے حالیہ فیصلے کا اطلاق صرف ان لڑکیوں پر ہوگا جو پہلے ہی اسکول کی تعلیم مکمل کر چکی ہیں۔ لڑکیوں کے یونیورسٹیوں میں جانے پر پابندی تا حال برقرار ہے۔
افغانستان کے سرکاری خبر رساں ادارے باختر نیوز ایجنسی نے اطلاع دی ہے کہ کاپیسا، پروان، پنجشیر، میدان وردگ، غزنی، پکتیا، لوگر، خوست، بدخشاں، بامیان اور پکتیکا صوبوں میں بارہویں جماعت سے فارغ التحصیل ہونے والی لڑکیاں جو گریجویشن کر چکی ہیں، اب وہ مزید تعلیم کیلئے صرف صحت کے تعلیمی اداروں میں جا سکتی ہیں۔
طالبان کی صحت عامہ کی وزارت نے کہا ہے کہ اس نے مذکورہ صوبوں کے صحت عامہ کے محکموں کو ان لڑکیوں کو تربیت کے لیے صحت کے اداروں میں رجسٹر کرنے کے لیے آرڈر جاری کردیا ہے۔
دریں اثنا ان لڑکیوں کو نجی طبی مراکز میں رجسٹر کرنے کے عمل کا تا حال اعلان نہیں کیا گیا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








