برطانیہ نے اسلام مخالف امریکی سوشل میڈیا انفلوئنسر ویلنٹینا گومیز کے ملک میں داخلے پر پابندی عائد کر دی ہے، جسے حکام نے عوامی مفاد اور سیکیورٹی خدشات سے جوڑ دیا ہے۔
برطانوی میڈیا کے مطابق وزیر داخلہ شبانہ محمود نے یہ فیصلہ اس وقت کیا جب ویلنٹینا گومیز کو مئی میں لندن میں ایک مبینہ دائیں بازو کے مظاہرے میں شرکت کے لیے آنے کی اجازت دی گئی تھی۔ تاہم ان کے متنازع خیالات اور ممکنہ سیکیورٹی خطرات پر بڑھتی ہوئی تنقید کے بعد حکومت نے یو ٹرن لیتے ہوئے ان کے داخلے پر پابندی لگا دی۔
رپورٹس کے مطابق انہیں اس سے قبل ای ویزا جاری کیا گیا تھا، مگر ارکانِ پارلیمنٹ اور سماجی حلقوں کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آنے کے بعد معاملہ دوبارہ زیر غور آیا۔
برطانوی حکام کا کہنا ہے کہ اگر کسی غیر ملکی کی موجودگی کو عوامی مفاد کے خلاف سمجھا جائے تو حکومت کے پاس اسے روکنے کا مکمل اختیار موجود ہے۔
دوسری جانب مئی میں لندن میں دائیں بازو کے رہنما ٹامی رابنسن کی قیادت میں ایک بڑی ریلی متوقع ہے، جس کے حوالے سے سیکیورٹی ادارے پہلے ہی خدشات کا اظہار کر رہے ہیں۔
واضح رہے کہ ویلنٹینا گومیز سوشل میڈیا پر اپنے اسلام مخالف بیانات کے باعث پہلے ہی متنازع شخصیت کے طور پر جانی جاتی ہیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








