دینی مدارس کے اتحاد نے ڈی جی آئی ایس پی آر کا بیان مسترد کردیا

تازہ ترین

تازہ ترین

فوٹو ڈان

پاکستان کے تمام مکاتب فکر کے دینی مدارس کی تنظیموں کے مشترکہ پلیٹ فارم اتحادِ تنظیماتِ مدارس پاکستان نے پاک فوج کے ترجمان کی پریس کانفرنس پر خفگی کا اظہار کرتے ہوئے اپنا ردعمل دیا ہے۔

اتحاد تنظیمات مدارس پاکستان کی طرف سے جاری اعلامیے کے مطابق اتحاد کے قائدین نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ ہمیں ڈی جی آئی ایس پی آر کا یہ بیان سن کر حیرت ہوئی کہ ”پچاس فیصد مدارس کا پتا ہی نہیں کون چلا رہا ہے“، ان کی خدمت میں گزارش ہے مدارس نہ کوئی خلائی مخلوق ہیں، نہ فضا میں معلّق ہیں، شہروں اور آبادیوں میں قائم ہیں، ہر ایک کو ان کے سربراہان کا علم ہے اور وہ ادارہ جو زیرِ زمین حقائق کابھی پتا چلا لیتا ہے، اُن سے یہ بیان سن کر حیرت بھی ہوئی اور افسوس بھی ہوا۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے اتحاد کی قیادت نے کہا کہ دینی مدارس وجامعات نے کبھی رجسٹریشن سے انکار نہیں کیا بلکہ جس قانون کے تحت مدارس رجسٹرڈ ہوتے رہے اس قانون کے تحت رجسٹریشن حکومت کی طرف سے روک دی گئی، پی ڈی ایم کی گزشتہ حکومت کے ساتھ رجسٹریشن کا فارمولا طے ہوگیا تھا، مسودہ َقانون بھی منظور ہوگیا تھا اور وزیرِ اعظم نے پختہ وعدہ کیا تھا کہ اسے پارلیمنٹ سے منظور کرا کر اس پر عمل درآمد شروع کردیا جائے گا، لیکن ایک دن میں درجنوں گمنام یونیورسٹیوں کے چارٹر منظور ہوگئے، مگر اس قانون کی پارلیمنٹ میں ایک خواندگی ہوجانے کے باوجود اسے کس کے اشارے پر روکا گیا؟
ہم اب بھی طے شدہ امور پر قائم ہیں، اگر ریاست کی بعض ذمے دار شخصیات مزید بات چیت کرنا چاہتی ہیں تو ہم اس کے لیے بھی تیار ہیں۔
ملک جب سے سیاسی انتشار کا شکار ہوا ہے، دینی مدارس وجامعات نے حکومت کے لیے کوئی مسئلہ پیدا نہیں کیا، نہ دینی قوتوں نے اس انتشار کو ہوا دی ہے اور نہ اس سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کی ہے، ہم نے ملک وملت کے مفاد میں دہشت گردی کے خلاف ریاستی اداروں کے اقدامات کی ہمیشہ حمایت کی ہے، ہم نے حساس اداروں کی خواہش پر پیغامِ پاکستان کے لیے متفقہ فتویٰ جاری کیا، جس کی دستاویز آج بھی موجود ہے۔
اگر دینی مدارس وجامعات کے بارے میں اتنی بے خبری ہے تو پھر باقی امور کو ہم اس پر قیاس کرسکتے ہیں، کیا ہماری ریاست کے ذمے داران مفتی محمد تقی عثمانی، مفتی منیب الرحمٰن، مولانا قاری محمد حنیف جالندھری، سینیٹر پروفیسر ساجد میر، مولانا یاسین ظفر، مولانا عبد المالک اور علامہ ریاض حسین نجفی کو نہیں جانتے، یہی لوگ مدارس چلانے والے ہیں اور مدارس کی تنظیمات کے بھی ذمے داران ہیں۔

Related Posts