امریکہ نے وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کو گرفتار کرنے کیلئے 3 جنوری 2026 کو ایک خفیہ آپریشن کیا جس میں مبینہ طور پر ایک طاقتور سونک ہتھیار استعمال کیا گیا۔ اس آپریشن سے متعلق وینزویلا کے صدر کے انتہائی قابل اعتماد سیکیورٹی گارڈ نے ایک انٹرویو میں خوفناک تفصیلات بیان کیں جو کہ سوشل میڈیا پر وائرل ہوگیا جسے وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولین لیویٹ نے بھی سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر شیئر کیا تاہم اس کی باضابطہ تصدیق نہیں کی گئی۔
گواہ کا بیان (مبینہ سیکیورٹی گارڈ)
گواہ کے مطابق جیسے ہی حملہ شروع ہوا تمام ریڈار سسٹمز بغیر کسی واضح وجہ کے اچانک بند ہو گئے۔ اس کے فوراً بعد آسمان میں بڑی تعداد میں ڈرونز نمودار ہوئے جس کے بعد تقریباً آٹھ ہیلی کاپٹروں سے بیس کے قریب امریکی فوجی زمین پر اترے۔
گواہ نے بتایا کہ امریکی فورسز انتہائی جدید ٹیکنالوجی استعمال کر رہی تھیں۔ ان کی فائرنگ کی رفتار اور درستگی اتنی زیادہ تھی کہ محسوس ہوتا تھا جیسے ہر فوجی ایک منٹ میں تقریباً 300 گولیاں چلا رہا ہو۔
گواہ کے مطابق ایک لمحے میں امریکی فورسز نے کچھ لانچ کیا جسے اس نے ایک انتہائی شدید آواز کی لہر(very intense sound wave)قرار دیا۔اس نے کہا کہ اچانک مجھے یوں محسوس ہوا جیسے میرا سر اندر سے پھٹ رہا ہو۔ ہم سب کے ناک سے خون بہنے لگا کچھ لوگ خون کی الٹیاں کرنے لگے۔ ہم زمین پر گر گئے اور حرکت کے قابل بھی نہ رہے۔اس سونک ہتھیار یا وہ جو کچھ بھی تھا کے بعد ہم کھڑے ہونے کے قابل بھی نہیں تھے۔
Well, it wasn’t an interview. An audio got leaked from the Venezuelan paramilitary group called “colectivos.” They also said many of them are returning the weapons given by the dictatorship because they now they know they don’t stand a chance. https://t.co/CeLv93CXuW
— Ali Charts (@alicharts) January 10, 2026
گواہ کا دعویٰ ہے کہ صرف 20 امریکی فوجیوں نے سینکڑوں وینزویلا کے سیکیورٹی محافظوں کو ناکارہ بنا دیا جبکہ اس دوران کسی بھی امریکی فوجی کے زخمی یا ہلاک ہونے کی اطلاع نہیں ملی۔
انتہائی خوفزدہ انداز میں گواہ نے کہاکہ ہم سینکڑوں تھے لیکن ہمارے پاس کوئی چانس نہیں تھا۔ ان کی ٹیکنالوجی ایسی تھی جو ہم نے پہلے کبھی نہیں دیکھی۔ امریکہ سے ٹکر لینے والے کو اندازہ ہی نہیں کہ وہ کتنا خطرناک ہے۔ میں کبھی بھی ان کے سامنے کھڑا ہونا نہیں چاہوں گا۔
آپریشن کی مبینہ تفصیلات
ذرائع کے مطابق یہ خفیہ آپریشن وینزویلا کے دارالحکومت کاراکاس میں صدر مادورو کے کمپاؤنڈ اور دیگر مقامات پر کیا گیا۔ وینزویلا کی وزارت داخلہ کے مطابق اس کارروائی میں تقریباً 100 سیکیورٹی فورسز ہلاک ہوئیں۔
دعویٰ کیا گیا ہے کہ صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ سیلیا فلورس کو گرفتار کر کے نیویارک منتقل کر دیا گیا جہاں ان پر منشیات کی اسمگلنگ اور دیگر سنگین الزامات کے تحت مقدمہ چلایا جا رہا ہے۔
سابق امریکی انٹیلی جنس ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈائریکٹڈ انرجی ویپنز، جن میں مائیکرو ویوز یا لیزر جیسے ہتھیار شامل ہیں برسوں سے موجود ہیں اور ناک سے خون بہنا اور جسم کا مفلوج ہو جانا انہی ہتھیاروں کے اثرات سے مشابہت رکھتا ہے۔ ان ذرائع کے مطابق ممکن ہے کہ یہ پہلا موقع ہو جب امریکہ نے اس نوعیت کی ٹیکنالوجی کو براہِ راست جنگی استعمال میں لایا ہو۔
Stop what you are doing and read this…
🇺🇸🇺🇸🇺🇸🇺🇸🇺🇸 https://t.co/v9OsbdLn1q— Karoline Leavitt (@PressSec) January 10, 2026
وائٹ ہاؤس نے مبینہ گواہ کے بیان کو سوشل میڈیا پر شیئر ضرور کیا تاہم اس کی باضابطہ تصدیق نہیں کی گئی۔یہ واقعہ پورے لاطینی امریکہ میں شدید ہلچل کا باعث بن گیا ہے اور اسے امریکہ کی فوجی برتری کے ایک واضح پیغام کے طور پر دیکھا جا رہا ہے کہ امریکہ سے ٹکراؤ مت کرو۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








