وزیراعظم شہباز شریف نے ایپکس کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد تیز کرنے کی ہدایت کردی جبکہ عسکری و سیاسی قیادت نے اتفاق کیا ہے کہ پاکستان کی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔
وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت ایپکس کمیٹی کا اجلاس ہوا، جس میں سیاسی و عسکری قیادت نے شرکت کی، اجلاس کا اعلامیہ جاری کردیا گیا۔
ذرائع کے مطابق سیاسی و عسکری قیادت نے پاکستان نے اتفاق کیا ہے کہ پاکستان کی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔ وزیراعظم نے نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد تیز کرنے کی ہدایت کردی۔
یہ بھی پڑھیں:
چین نے پاکستان کو 70 کروڑ ڈالر دے دیے، وزیر خزانہ کی تصدیق
ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف نے نیکٹا کی غیر فعالیت پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے فی الفور فعال بنانے کی ہدایت کردی۔
ایپکس کمیٹی کے اجلاس میں امن و امان کی صورتحال پر آل پارٹیز کانفرنس جلد بلانے پر بھی اتفاق کیا گیا، اجلاس میں ملکی معاشی صورتحال کا بھی تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
اس سے قبل نیشنل ایکشن پلان کے جائزہ اجلاس کے دوران اظہار خیال کرتے ہوئے وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ملکی مفادات کیلئے کسی صورت انا کو آڑے نہیں آنے دینا چاہیے، اس رویئے کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سیاسی حلیفوں سمیت ہم سب نے سیاست کو داؤ پر لگادیا، اگر خود گھر کے حالات درست نہیں کریں گے تو کوئی مدد نہیں کرے گا، سیاسی استحکام ہر لحاظ سے مقدم ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ملک معاشی چیلنجزکا سامنا کررہا ہے، آئی ایم ایف سے معاملات طے ہوجائیں گے، ہم کڑی شرائط ماننے پر مجبور ہوگئے ہیں۔ دوست ممالک سے مثبت بھی جواب ملا، نیک خواہشات کااظہار کیا گیا، ایک دوست ملک کے وزیرخارجہ نے بات کرکے مدد کی یقین دہانی کرائی۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سانحہ آرمی پبلک اسکول کے بعد نیشنل ایکشن پلان بنایا گیا، نیکٹا غیر فعال ادارہ بن چکا ہے، کہا کراچی حملےمیں پولیس نے بڑی دلیری کا مظاہرہ کیا۔ شہبازشریف کا کہنا تھا کہ کراچی میں انتہائی افسوسناک واقعہ پیش آیا، کے پی او حملے میں پولیس،رینجر اور افواج نے دلیری سے مقابلہ کیا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








