برطانیہ میں دنیا کی سب سے پرانی اور بڑی سیاحتی کمپنی تھامس کک دیوالیہ ہوگئی ، جس کے بعد کمپنی نےاپنےتمام آپریشنزبندکردئیے ہیں اور تمام سیاحتی منصوبے بھی منسوخ کردیے گئے۔
سیاحتی کمپنی تھامس کک کا آغاز 1841ء میں برطانیہ سے ہواتھا ، ابتدائی دنوں میں کمپنی ایک دن کے ٹرین کے سفر کا انتظام کرتی تھی جس کے بعد بدلتے وقت کے ساتھ ساتھ وہ اپنی خدمات کے دائرہ کار کو وسیع کرتی گئی، ہوٹل اور ائیرلائن سروس سے تھامس کُک نے دنیا کے 16 ممالک میں ہر سال ایک کروڑ سے زائد لوگوں کو سیاحتی سہولیات فراہم کیں۔
178 سالہ قدیم کمپنی کے دیوالیہ ہونے اور کام بند کرنے کے اعلان سے ماہرین سیاحت کا ابتدائی تخمینہ ہے کہ کم از کم چھ لاکھ سیاحوں کے طے شدہ پروگراموں کو از سر نو ترتیب دینا ہوگا، زیادہ تر سیاح یورپ اور دیگر ممالک گئے ہیں، حکومتوں پر دباؤ ہے کہ ان افراد کو اپنے متعلقہ ممالک خیریت سے پہنچانے کے لیے ایک دوسرے سے بڑے پیمانے پر روابط شروع کریں۔
برطانوی حکومت کا کہنا تھا کہ ان افراد کی واپسی ملکی تاریخ میں انخلا کا اب تک کا سب سے بڑا منصوبہ ہو گا جبکہ برطانوی شہری ہوابازی کی کمپنی نے بتایا کہ تھامس کک سے منسلک چار فضائی کمپنیوں کے جہازوں کو کھڑا کر دیا گیا ہے۔
کمپنی کے دیوالیہ ہونے کے باعث تقریبا 22 ہزار افراد ملازمت سے فارغ ہوجائیں گےجن میں سے 9 ہزار برطانوی ہیں۔
تھامس کک کی جانب سے بیان میں کہا گیا ہے کہ کمپنی کو خسارے سے نکالنے کے لیے شیئر ہولڈرز اور فنڈنگ کرنے والوں کے درمیان بات چیت نتیجہ خیز ثابت نہیں ہوسکی اور نتیجتاً کسی قسم کا معاہدہ طے نہیں پا سکا۔ بیان میں واضح کیا گیا ہے کہ کمپنی نے مستقبل کی تمام پروازیں اور تعطیلات بھی منسوخ کر دی ہیں۔
We are sorry to announce that Thomas Cook has ceased trading with immediate effect.
This account will not be monitored.
Please visit https://t.co/4lGVHZm2jQ for further advice and information.#ThomasCook pic.twitter.com/NJ7vi4UJZ4
— Thomas Cook Airlines (@TCAirlinesUK) September 23, 2019
مئی 2019 میں کمپنی کی جانب سے یہ اعلان سامنے آیا تھا کہ اس کے خالص قرضوں کا حجم بڑھ کر 1.25 ارب پاؤنڈز( تقریباً دو کھرب، 37 ارب 75 کروڑ روپے) تک پہنچ گیا ہے۔ ماہرین سیاحت کے نزدیک تھامس کک کا دیوالیہ ہونا تمام مغربی ممالک کے لیے انتہائی منفی ہے۔
کمپنی کے دیوالیہ ہونے کی وجہ بین القوامی لینڈزر سے قرض پروگرام کے حصول میں ناکامی ہے، کمپنی ، ائیر لائنز، ہوٹلز اور ریزوٹس چلاتی تھی۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








