مصری حکام نے اقصر شہر میں تقریباً 3500 سال پرانے ایک مقبرے کی دریافت کا دعویٰ کیا ہے جس کے بارے میں ماہرین آثار قدیمہ کا خیال ہے کہ یہ فراعنہ مصر کے اٹھارویں خاندان کے شاہی فرد کا مدفن ہے۔
مقبرہ دریائے نیل کے کنارے اس مقام پر واقع ہے جہاں شہنشاؤں کی وادی اور ملکاؤں کے مدفن ہیں جو ’’ملکاؤں کی وادی‘‘ کے نام سے مشہور ہیں۔
مصر کی قدیم نوادرات کی سپریم کونسل کے سربراہ مصطفیٰ وزیری کے مطابق ’’مصری اور برطانوی ماہرین کی مشترکہ ٹیم نے اس مقبرے کا کھوج لگایا ہے۔‘‘
وزیری نے کہا کہ “مقبرے کے اندر سے دریافت ہونے والی اشیاء سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ توت عنخ آمون اور اخناتون کے خاندان فراعین کے اٹھارویں خاندان شاہی کے دور سے تعلق رکھتا ہے۔‘‘
فراعنہ مصر کے 18ویں خاندان کے دور کو مصری تاریخ کے ادوار میں جدید سلطنت مصر کہا جاتا ہے، یہ 1292 قبل مسیح تک جاری رہا اور اسے قدیم مصر کے خوشحال ترین سالوں میں شمار کیا جاتا ہے۔
برطانوی تحقیقی ٹیم کے سربراہ اور کیمبرج یونیورسٹی کے ماہر ڈاکٹر پیئرز لیدرلینڈ نے امکان ظاہر کیا کہ یہ مقبرہ توتموس نسب کی کسی ملکہ یا شہزادی کا ہو سکتا ہے۔
مصری ماہر آثار قدیمہ محسن کامل نے بتایا کہ مقبرے کا اندرونی حصہ “مخدوش حالت میں” تھا۔ نوادرات بورڈ کے بیان کے مطابق، اس کے کچھ حصے بشمول نوشتہ جات قدیم سیلابوں سے تباہ ہو چکے ہیں۔ جب کہ تدفین کا کمرہ ریت اور چونے کی گاد سے اٹا تھا”۔
مصر میں حالیہ برسوں کے دوران آثار قدیمہ کی کئی اہم دریافتیں ہوئی ہے، جن میں دارالحکومت قاہرہ کے جنوب میں واقع سقارہ کا قدیم قبرستان نمایاں ہے۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ میڈیا کی توجہ کھدائی اور اس کے نتیجے میں ہونے والی دریافتوں پر مرکوز رہنے سے اس سلسلے میں ہونے والی علمی تحقیق پر بات کم ہو رہی ہے۔
تاہم یہ دریافتیں مصر کے لئے بے حد ضروری سیاحتی صنعت کو دوبارہ زندہ کرنے کی کوششوں کا ایک اہم حصہ ثابت ہوئی ہیں، جس کا سب سے اہم منصوبہ اہرام مصر کے دامن میں واقع طویل عرصے سے رکا ہوا عظیم الشان مصری میوزیم کا افتتاح ہے۔
104ملین آبادی کا یہ ملک اس وقت شدید معاشی بحران کا شکار ہے۔
سرکاری اعداد وشمار کے مطابق مصر میں سیاحت کی صنعت جی ڈی پی کا 10 فیصد اور تقریباً 20 لاکھ ملازمتوں پر مشتمل ہے، لیکن سیاسی بدامنی اور کرونا وبا میں سفری پابندیوں نے اسے شدید نقصان پہنچایا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








