معروف عالم دین مفتی محمد نعیم کو بچھڑے تین سال بیت گئے

تازہ ترین

تازہ ترین

معروف مذہبی اسکالر و دینی شخصیت مفتی محمد نعیم کو بچھڑے تین سال بیت گئے۔

مفتی محمد نعیم سائٹ ایریا کراچی میں قائم بین الاقوامی دینی درسگاہ جامعہ بنوریہ سائٹ کے مہتمم وشیخ الحدیث اور وفاق المدارس العربیہ کی مجلس شوری کے رکن اور ہردلعزیز عالم دین تھے، پاکستان میں خود کش حملوں ،دہشتگردی کیخلاف اور انسداد پولیو ویکسی نیشن کے حق میں فتویٰ دیا اور عوام کی رہنمائی کی۔

یہ بھی پڑھیں:

مسلمان بھارت میں ہندوؤں کے غلام بن کر ہی رہ سکتے ہیں، ہندو انتہا پسند رہنما کی بڑھکیں

مفتی نعیم محب وطن دینی رہنما تھے۔ وہ پیغام پاکستان جیسے قومی بیانیہ کے محرکین میں شامل تھے، ان کا شمار ملک کے جید اور با اثرعلما میں ہوتاتھا، وہ ایک سافٹ امیج کے مالک مذہبی عالم تھے،انہوں نے جامعہ بنوریہ عالمیہ سائٹ میں میڈیا کو بھی فلم، فوٹو گرافی اور طلبہ کے انٹرویوزکی اجازت دی اور خود بھی میڈیا سے بات کرنے میں نہیں کتراتے تھے۔

وہ ہمیشہ سے سیاست سے دور رہے، لیکن سیاستدان یا علما کسی بھی شخصیت کی رائے کو مذہب کیخلاف دیکھتے توکھل کر اظہار خیال کرتے اور مذہبی معاملات کے علاوہ سیاسی و سماجی مسائل پر بھی وہ میڈیا ٹاک شوز کے ذریعہ قوم بالخصوص مذہب کے مثبت پیغام کی بھرپور ترجمانی کرتے، مفتی نعیم کا شمار انسداد پولیو کے قطروں کے جواز، خود کش حملوں کیخلاف سب سے پہلا فتوی دینے والے علما میں ہوتا ہے۔

کراچی میں بدترین بدامنی کے دور میں امن کاروان مہم چلائی اور پیغام پاکستان جیسی دستاویز کی تیاری میں بھی ان کا کردار قائدانہ رہا۔ ملک سے فرقہ واریت ودیگر تعصبات کے خاتمے کیلئے بھی ان کی خدمات نمایاں ہیں ،مدارس دینیہ کے سب سے بڑے تعلیمی بورڈ وفاق المدارس العربیہ پاکستان کی مجلس شوری کے سرگرم رکن اور مدارس میں جدید تعلیم پڑھانے کے  حامی تھے۔

مفتی نعیم مرحوم مدارس کے نصاب سے لے کر رجسٹریشن کے معاملات ہر تحریک کا حصہ رہے، مدارس میں جب غیر ملکی طلبا کے داخلوں پر مشرف دور میں پابندی لگی تو واحد عالم دین تھے جو اس پابندی کیخلاف میدان میں آئے اور اپنے ادارے جامعہ بنوریہ عالمیہ میں غیر ملکی طلبہ کو جگہ دی، ان کی تصنیفی خدمات میں سات جلدوں پر مشتمل تفسیر روح القرآن، شرح مقامات، نماز مدلل اور کئی دینی کتب شامل ہیں۔

مفتی نعیم کے آباء و اجداد کا تعلق پارسی مذہب سے تھا جو بھارتی گجرات سورت میں آبادتھے، دادا نے اسلام قبول کیا جب مفتی نعیم کے والد قاری عبد الحلیم کی عمر چار برس تھی، قاری عبد الحلیم تقسیم ہند سے قبل ہی پاکستان آ گئے تھے۔ 1958 میں مفتی محمد نعیم کی کراچی میں پیدائش ہوئی۔

انہوں نے جامعہ بنوریہ میں اپنے والد کے ساتھ  خدمات انجام اور بعد ازاں اہتمام کی ذمے داری ملنے پر جامعہ بنوریہ کو ایک بین الاقوامی دینی درسگاہ میں بدل دیا، جہاں آج 53ممالک کے 5ہزار سے زائد طلبا وطالبات زیر تعلیم ہیں۔

اس کے علاوہ  بنوریہ میں ویلفیئر ٹرسٹ، 60زائد فلاحی سماجی ، اور تعلیمی شعبہ جات قائم ہیں۔ آخری عمر میں مفتی محمد نعیم دو سال تک عارضہ قلب میں مبتلا رہے اور 20جون 2020 کو وہ خالق حقیقی سے جاملے، نماز جنازہ میں لاکھوں عوام اور عقیدت مندوں نے شرکت کی، تدفین جامعہ بنوریہ کے قبرستان میں کی گئی ، مفتی نعیم کے بعد ان کے بیٹے مفتی نعمان نعیم اور مولانا فرحان نعیم جامعہ بنوریہ کا انتظام سنبھالے ہوئے ہیں ۔

Related Posts