کوئٹہ: جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ جمعیت علمائے اسلام (ف) خیبرپختونخوا کی سب سے بڑی سیاسی جماعت تھی، حالات نے ثابت کردیا پچھلے انتخابات میں دھاندلی ہوئی تھی۔
انہوں نے کہا کہ ہم نے ایک جماعت کو کنٹرول میں رکھنا ہے اور آگے نہیں جانے دینا، یہ سوچ شکست کھا چکی ہے، اب راستے کھول دو اور ہمیں آگے بڑھنے دو۔
میڈیا سے بات کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ جمعیت علمائے اسلام اس وقت تحصیلوں اور یونین کونسل کی سطح پر سب سے بڑی جماعت بن گئی ہے،اب حالات نے ثابت کردیا کہ پچھلے انتخابات میں دھاندلی ہوئی تھی۔
انہوں نے کہا کہ جمعیت علمائے اسلام پہلے بھی خیبرپختونخوا کی سب سے بڑی سیاسی قوت تھی اور اب بھی سب سے بڑی سیاسی قوت ہے تاہم جو قوتیں اور نادیدہ قوتیں جمعیت کے سامنے رکاوٹیں بنتی ہیں اور ہمارا مذہبی لباس ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم علما کی جماعت ہیں، دین اسلام اور امت مسلمہ کی بات کرتے ہیں۔مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ پاکستان میں آئین کی روح سے قرآن وسنت کے نظام کی بات کرتے ہیں تو سمجھتے ہیں کہ اگر یہ لوگ اوپر آگئے تو امریکا اور مغربی دنیا کیا سوچے گی۔
انہوں نے کہ جب مغربی دنیا نے افغانستان کے طالبان کے ساتھ صلح کرلی اور ہم ان کے لیے ناقابل قبول نہیں ہوں گے، لہٰذا یہ سوچ ختم ہونی چاہیے۔
سربراہ جمعیت علمائے اسلام نے کہا کہ ہم پاکستان کو ان سے بہتر چلائیں گے، ہمیں پاکستان چلانا آتا ہے اور خدا کے فضل سے ہم دیانت دار لوگ ہیں۔
انہوں نے کہا کہ من حیث الجماعت جمعیت علمائے اسلام پر کسی قسم کے کرپشن کی باتیں نہیں ہیں، ملک میں اس طرح کی چیزیں رہیں گی تو ملک کا کاروبار ٹھپ ہوجائے گا۔
سیاست دانوں کو بدنام کرنا، ان کی تذلیل کرنا یہ وطیرہ اب ختم ہوجانا چاہیے ورنہ جو لوگ سیاست دانوں کے خلاف اس طرح کا پروپیگنڈا کرتے ہیں وہ سیاست دانوں سے ہزار درجہ زیادہ کرپٹ لوگ ہیں۔