دنیا بھر میں آج عالمی یومِ بچہ (ورلڈ چلڈرن ڈے)منایا جا رہا ہے جس کا مقصد بچوں کے حقوق، ان کی حفاظت اور بہتر مستقبل کو یقینی بنانے کا شعور بیدار کرنا ہے۔ اقوام متحدہ کے تحت ہر سال یہ دن اس یاد دہانی کے طور پر منایا جاتا ہے کہ ہر بچہ محبت، تعلیم، صحت اور مساوی مواقع کا حق رکھتا ہے۔ 1959 میں اقوام متحدہ نے بچوں کے حقوق کا اعلامیہ منظور کیاجبکہ 1989 میں بچوں کے حقوق سے متعلق کنونشن نے ان حقوق کو مزید مضبوط بنا دیا۔
رواں سال 2025 کا عالمی تھیم بچوں کی آوازیں اور مساوی حقوق رکھا گیا ہے جس کے تحت دنیا بھر میں تقریبات، آگاہی مہمات اور بچوں پر ہونے والے مسائل کے حل کے لیے سرگرمیاں جاری ہیں۔ کئی ممالک میں سیمینارز، آرٹ شوز اور کمیونٹی پروگرام بچوں کے حقوق کے فروغ کے لیے منعقد کیے جا رہے ہیں۔
یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ آج بھی لاکھوں بچے غربت، تعلیم کی کمی، تشدد، جبری مشقت اور استحصال جیسے مسائل کا شکار ہیں اور ان کے حقوق کے تحفظ کے لیے ٹھوس اقدامات کرنا وقت کی ضرورت بن چکا ہے۔
تاہم عالمی یومِ بچہ صرف خوشیوں اور تقریبات کا دن نہیں بلکہ یہ ایک سنجیدہ یاد دہانی بھی ہے کہ بچوں کی حفاظت ہماری اجتماعی ذمہ داری ہے۔
بچوں کو جنسی ہراسانی اور آن لائن خطرات سے کیسے بچائیں؟
پاکستان سمیت دنیا بھر میں بچوں کے خلاف جنسی جرائم اور آن لائن ہراسانی خطرناک حد تک بڑھ چکی ہے۔ ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ کے مطابق ہر ماہ درجنوں بلکہ سینکڑوں بچے سوشل میڈیا اور گیمنگ پلیٹ فارمز پر نامناسب پیغامات، دوستی کے جھانسے اور بلیک میلنگ کا شکار ہوتے ہیں۔ مجرم زیادہ تر جعلی شناخت استعمال کر کے بچوں پر اعتماد قائم کرتے ہیں اور پھر انہیں دھمکیوں سے قابو کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس لیے والدین کے لیے ضروری ہے کہ وہ بچوں کو حقیقی دنیا اور آن لائن دونوں جگہ ایسے خطرات سے محفوظ رکھنے کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کریں۔
آن لائن ہراسانی سے بچاؤ کے اہم اصول
13 سال سے کم عمر بچے کو بالکل سوشل میڈیا نہ دیں
فون اور ٹیبلٹ پر پیرنٹل کنٹرول لازمی لگائیں (Google Family Link، Qustodio یا Screen Time)
ہر ایپ کی پرائیویسی سیٹنگ چیک کریں صرف دوستوں سے پیغامات آنے دیں
واٹس ایپ، انسٹاگرام، ٹک ٹاک پر نام، سکول، عمر، گھر کا پتہ کبھی نہ لکھنے دیں
انجانے نمبر سے ویڈیو کال آئے تو فوراً بلاک کریں
اسکرین شاٹس لے کر رکھیں ثبوت ضائع نہ کریں
بچے کو بتائیں
کوئی بھی نازیبا تصویر مانگے، دکھائے یا بھیجنے کو کہے تو فوراً ماں باپ کو بتاؤ۔
3. اگر آن لائن ہراسانی ہو جائے تو فوراً یہ کریں
بچے کو ڈانٹیں نہیں بلکہ تسلی دیں
تمام چیٹس، تصاویر، ویڈیوز محفوظ کریں
فوراً ایف آئی اے سائبر کرائم ہیلپ لائن 1991 پر کال کریں
آن لائن شکایت درج کروائیں
بچے کا اکاؤنٹ ڈیلیٹ یا ڈی ایکٹیویٹ کر دیں
حقیقی زندگی میں بچوں کو محفوظ رکھنے کے بنیادی اصول
بچوں کو تین سال کی عمر سے نجی جسمانی اعضا کے درست نام اور ان کی حساسیت سمجھائیں۔
اچھا ٹچ اور برا ٹچ کی مثالیں آسان الفاظ میں بتائیں۔
بچوں کو کسی کے ساتھ تنہا نہ چھوڑیں چاہے وہ رشتہ دار، استاد یا جان پہچان والا ہی کیوں نہ ہو۔
اگر بچہ کسی واقعے کا ذکر کرے تو اس کی بات فوراً سنیں اسے الزام نہ دیں اور متعلقہ حکام کو فوری طور پر اطلاع دیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








