ایران جنگ میں اربوں ڈالرز کا نقصان، ٹرمپ کے مشیر نے تفصیلات بتا دیں

تازہ ترین

تازہ ترین

ٹرمپ
(فوٹو: نیو یارک ٹائمز)

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ  کے اعلیٰ اقتصادی مشیر کے مطابق امریکہ نے 28 فروری کو اسرائیل کے ساتھ مل کر ایران پر مشترکہ حملے شروع کرنے کے بعد سے اب تک ایران کے خلاف جنگ پر 12 ارب ڈالر خرچ کیے ہیں، جبکہ مشرقِ وسطیٰ کے تنازع کے بڑھتے ہوئے معاشی اثرات پر امریکا کے اندر بھی خدشات جنم لے رہے ہیں۔

الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق وائٹ ہاؤس کی نیشنل اکنامک کونسل کے ڈائریکٹر کیون ہیسٹ نے اتوار کو سی بی ایس کے پروگرام فیس دی نیشن میں گفتگو کرتے ہوئے یہ رقم بتائی اور کہا کہ اب تک انہیں یہی تازہ ترین بریفنگ دی گئی ہے۔

انٹرویو کے دوران کیون ہیسٹ کو اپنی بات کی وضاحت کرنا پڑی، کیونکہ ابتدا میں ایسا محسوس ہوا تھا کہ وہ اس رقم کو پوری جنگ کے ممکنہ مجموعی خرچ کے طور پر پیش کر رہے ہیں۔ سی بی ایس کی اینکر مارگریٹ برینن نے نشاندہی کی کہ صرف پہلے ہفتے میں ہی اسلحے اور گولہ بارود پر پانچ ارب ڈالر سے زائد خرچ ہو چکے تھے، تاہم انہوں نے اس نکتے کا براہِ راست جواب نہیں دیا۔

اس کے باوجود کیون ہیسٹ نے امریکا کے لیے اس جنگ کے معاشی خطرات کو زیادہ اہمیت نہیں دی۔ ان کا کہنا تھا کہ مالیاتی منڈیاں مستقبل کے توانائی معاہدوں کی قیمتوں میں پہلے ہی اس بات کا اندازہ لگا رہی ہیں کہ تنازع جلد ختم ہو جائے گا اور توانائی کی قیمتیں نمایاں طور پر کم ہو جائیں گی، جو امریکا میں پیٹرول پمپوں پر بڑھتی ہوئی ایندھن کی قیمتوں کے باعث صارفین کی تشویش کے برعکس ہے۔

دوسری جانب ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کے حوالے سے دی گئی دھمکیوں کے بعد عالمی منڈیاں اب بھی بے چینی کا شکار ہیں۔ اس اہم سمندری راستے سے دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل کی سپلائی گزرتی ہے۔ کیون ہیسٹ کا کہنا تھا کہ اگر خلیج میں جہاز رانی متاثر ہوئی تو اس کا زیادہ نقصان ان ممالک کو ہوگا جو اس خطے کے تیل پر انحصار کرتے ہیں، امریکا کو نہیں۔

رپورٹ کے مطابق کیون ہیسٹ نے کہا کہ ایرانی اقدامات سے امریکا کی معیشت کو نقصان نہیں پہنچے گا۔” انہوں نے مزید کہا کہ 1970 کی دہائی کے برعکس اب امریکا خود ایک بڑا تیل پیدا کرنے والا ملک بن چکا ہے اور اس کے پاس خود بہت زیادہ تیل موجود ہے۔

Related Posts