امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سب سے چھوٹے صاحبزادے 19 سالہ بیرن ٹرمپ نے کرپٹو کرنسی کے شعبے میں قدم رکھ کر حیران کن کامیابی حاصل کی ہے۔ امریکی مالیاتی جریدے فوربس کی ایک رپورٹ کے مطابق بیرن نے کرپٹو کاروبار سے اب تک تقریباً 15 کروڑ ڈالر (1.5 ارب روپے سے زائد) کما لیے ہیں۔
بیرن اس وقت نیویارک یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کررہے ہیں اور اپنے والد کے ساتھ مل کر ایک کرپٹو کرنسی کمپنی ورلڈ لبرٹی فنانشل کے شریک بانی ہیں۔ یہ کمپنی 2024 کے امریکی صدارتی انتخابات سے کچھ ماہ پہلے قائم کی گئی تھی۔
رپورٹ کے مطابق 19 سالہ بیرن ٹرمپ نے ہی اپنے والد کو کرپٹو کرنسی کے بنیادی اصول سکھائے کہ والیٹ کیا ہوتا ہے اور کرپٹو کس طرح کام کرتا ہے اورجب ڈونلڈ ٹرمپ دوبارہ امریکی صدر منتخب ہوئے تو اس کی کمپنی کی مقبولیت اور مالی قدر میں زبردست اضافہ ہوا۔
امریکی مالیاتی جریدے فوربس کے اندازے کے مطابق کمپنی کی کامیابی سے ٹرمپ خاندان کی دولت میں ڈیڑھ ارب ڈالر کا اضافہ ہوا جس میں سے 10 فیصد حصہ بیرن کے نام ہوا۔
بیرن ٹرمپ 2006 میں میلانیا ٹرمپ کے ہاں پیدا ہوئے۔ جب ان کے والد نے 2015 میں صدارتی انتخاب لڑا تو وہ محض نو سال کے تھے اور اس وقت سے لے کر اب تک میڈیا سے دور اور کم نمایاں شخصیت رہے ہیں مگر جب ٹرمپ 2017 میں صدر بنے تو بیرن نے واشنگٹن ڈی سی جا کر ایک مہنگے نجی اسکول میں تعلیم حاصل کی جس کی سالانہ فیس 50 ہزار ڈالر سے زیادہ تھی۔
2020 میں شائع ہونے والی ایک کتاب کے مطابق بیرن کی والدہ میلانیا نے اس وقت شادی کے معاہدے پر دوبارہ مذاکرات کیے تاکہ اپنے بیٹے کو خاندانی جائیداد اور کاروبار میں بہتر حصہ مل سکے۔
2024 میں جب بیرن نے یونیورسٹی میں داخلہ لیا تب وہ باضابطہ طور پر ورلڈ لبرٹی فنانشل کا حصہ بنے جو ان کا پہلا بڑا کاروباری قدم تھا جبکہ ٹرمپ خاندان کی ایک اور کمپنی ڈی ٹی مارکس ڈیفائی ایل ایل سی کے پاس 22.5 ارب کرپٹو ٹوکنز ہیں اور کمپنی کی آمدنی کا 75 فیصد حصہ بھی اسی کے پاس جاتا ہے۔ خود ڈونلڈ ٹرمپ کے پاس کمپنی کا 70 فیصد حصہ ہے جبکہ باقی 30 فیصد ان کے تین بیٹوں ایرک، ڈان جونیئر اور بیرن میں برابر تقسیم ہے۔
ابتدائی دنوں میں کمپنی کے ٹوکنز کو خاطر خواہ کامیابی نہیں ملی کیونکہ یہ دوبارہ فروخت یا منتقل نہیں ہوسکتے تھے لیکن جیسے ہی ٹرمپ نے انتخاب جیتا کرپٹو سرمایہ کار جسٹن سن نے کمپنی میں 7.5 کروڑ ڈالر کی سرمایہ کاری کی جس کے بعد کمپنی کی ٹوکن فروخت میں تیزی آگئی۔ صرف اگست تک کمپنی نے 67.5 کروڑ ڈالر مالیت کے ٹوکن فروخت کیے جس کے بعد بیرن کو ٹیکس کٹنے کے بعد تقریباً3.8کروڑ ڈالر کا منافع ملا جو انکی موجودہ دولت کا ایک اہم حصہ ہے۔
یہ بیرن ٹرمپ کا پہلا بڑا کاروباری تجربہ ہے جس سے نہ صرف انہیں ذاتی طور پر بہت مالی فائدہ ہوا بلکہ ٹرمپ خاندان کی مجموعی دولت میں بھی نمایاں اضافہ دیکھنے کو ملا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








