اسلام آباد میں ہونے والے حالیہ خودکش حملے میں ملوث کالعدم ٹی ٹی پی فتنہ الخوارج کے نیٹ ورک کو سیکورٹی فورسز نے کامیاب کارروائی کے دوران مکمل طور پر توڑ دیا ہے، اس حملے میں 12 افراد شہید جبکہ متعدد زخمی ہوئے تھے۔
جمعے کے روز جاری کیے گئے سرکاری بیان کے مطابق انٹیلی جنس بیورو اور کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ نے مشترکہ آپریشن کرتے ہوئے دہشت گرد گروہ کے چار اہم کارندوں کو گرفتار کرلیا جو اسلام آباد کے جی الیون جوڈیشل کمپلیکس میں ہونے والے خودکش دھماکے میں براہ راست ملوث تھے۔
تحقیقات کے دوران گرفتار سہولت کار سجاداللہ عرف شینا نے انکشاف کیا کہ باجوڑ کے علاقے چارمنگ سے تعلق رکھنے والے کمانڈر سعیدالرحمٰن عرف داداللہ نے افغانستان سے ٹیلیگرام ایپ کے ذریعے اس سے رابطہ کیا اور اسلام آباد میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کو نشانہ بناتے ہوئے زیادہ سے زیادہ جانی نقصان پہنچانے کے لیے خودکش حملے کی ہدایت جاری کی۔
ملزم شینا کے مطابق داداللہ نے خودکش بمبار عثمان عرف قاری کی تصاویر بھیجیں تاکہ اسے وصول کیا جاسکے۔
خودکش حملہ آور عثمان عرف قاری کا تعلق افغانستان کے علاقے ننگرہار کے شنواری قبیلے سے تھا۔ پاکستان پہنچنے کے بعد سجاداللہ شینا نے اس کے لیے اسلام آباد کے نزدیک ایک رہائش کا انتظام کیا۔
مزید بتایا گیا کہ داداللہ کی ہدایت پر خودکش جیکٹ پشاور کے اخون بابا قبرستان سے حاصل کی گئی، جسے بعد ازاں اسلام آباد لایا گیا۔ حملے کے روز جوڈیشل کمپلیکس جی الیون میں اسی جیکٹ کو بمبار عثمان پر باندھا گیا۔
سرکاری بیان کے مطابق افغانستان میں موجود ٹی ٹی پی کی اعلیٰ قیادت اس پورے نیٹ ورک کو ہر مرحلے پر راستہ دکھا رہی تھی۔
کارروائی کے دوران اس نیٹ ورک کے تمام افراد، بشمول کمانڈر اور تین دیگر ساتھیوں کو گرفتار کرلیا گیا ہے جبکہ مزید معلومات اور ممکنہ گرفتاریاں متوقع ہیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








