ٹی وی اینکر ندا یاسر کے متنازعہ بیانات! محنت کش طبقے کی توہین پر معافی کا مطالبہ زرو پکڑنے لگا

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ آن لائن)

معروف ٹی وی اینکر میزبان ندا یاسر کو حال ہی میں اپنے شو میں کھانے کی ڈلیوری رائیڈرز کے بارے میں متنازعہ بیان دینے پر شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا۔ ان کے بیانات کے بعد ڈلیوری کارکنان اور عوام نے ردعمل ظاہر کیا اور کئی رائیڈرز نے مطالبہ کیا کہ وہ عوامی طور پر معافی مانگیں۔

ندا یاسر نے اپنے مارننگ شو میں دعویٰ کیا کہ ڈلیوری رائیڈرز اکثر یہ بہانہ کرتے ہیں کہ ان کے پاس کھلے پیسے نہیں تاکہ گاہک کو اضافی رقم بطور ٹپ دینے پر مجبور کیا جا سکے تاہم میں نے اس رویے کو روکنے کے لیے ڈلیوری ڑائیڈر سے قریبی دکان سے کھلے پیسے کروا کر رائیڈرز کو انتظار کرواتی ہیں۔ ندا یاسر نے اسے ایک بری عادت اور فراڈ کی تکنیک روکنے کا طریقہ قرار دیا۔

@nuktapakistan Nida Yasir has once again sparked controversy by targeting delivery riders. It’s easy to blame delivery riders, but the truth is: providing exact change is the customer’s responsibility, not the rider’s. In this video, we discuss why riders face unnecessary stress, fines, and criticism due to careless customers and why we must respect their hard work in all weather conditions. Next time you order food or book a ride, remember: a little awareness and a good tip can go a long way. #nukta #nuktapakistan #nidayasir #deliveryriders ♬ original sound – Nukta Pakistan

ان کے بیانات پر سوشل میڈیا صارفین نے شدید ردعمل ظاہر کیا۔ کئی صارفین اور مشہور شخصیات جیسے فضا علی سمیت کئی افراد نے رائیڈرز کے لیے ہمدردی کا اظہار کیا جو سخت حالات میں کام کرتے ہیں، کم تنخواہ حاصل کرتے ہیں اور اکثر فوائد سے بھی محروم رہتے ہیں۔

ڈلیوری کارکنان کی ایک گروپ نے ویڈیو پیغام جاری کیا، جس میں کہا گیا کہ ندا یاسر کے بیانات غیر مہذب اور محنت سے کام کرنے والے طبقے کے خلاف تعصب پر مبنی ہیں اور انہوں نے مطالبہ کیا کہ میزبان اپنے شو میں عوامی معافی پیش کریں۔

اس تنازعے نے پاکستان میں ٹپ دینے کی ثقافت، ڈلیوری کارکنان کے مشکل حالات اور گاہکوں و میڈیا شخصیات کے رویے پر ایک وسیع بحث کو جنم دیا ہے۔

Related Posts