صوابی: جسٹس آفتاب آفریدی اور ان کے اہل خانہ کے قتل کے کیس میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، صوابی پولیس نے دوملزمان کو گرفتار کرکے واقعے میں استعمال کی جانے والی گاڑی بھی بر آمد کرلی ہے۔
اس حوالے سے ڈسٹرکٹ پولیس افسر صوابی محمد شعیب نے ایس پی انوسٹی گیشن بنارس خان کے ہمراہ میڈیا سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ 4 اپریل کو موٹر وے انبار انٹرچینج سے کچھ فاصلے پر افسوس ناک واقعہ پیش آیا تھا، جس میں انسداد دہشت گردی کی عدالت کے جج آفتاب آفریدی کو اہل خانہ سمیت شہید کردیا گیا تھا۔
میڈیا سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مقتول جج کے صاحبزادے عبدالماجد نے نا معلوم ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کرایا تھا جس میں وجہ عناد سابقہ دشمنی بتایا گیا۔ اس کیس کی تفتیش کے سلسلے میں انسپکٹر جنرل آف پولیس خیبر پختونخوا ثناء اللہ عباسی نے ریجنل پولیس آفیسر مردان کی سربراہی میں ایک کمیٹی تشکیل دی تھی۔
ان کا کہنا تھا کہ ریجنل پولیس آفیسر مردان کی سربراہی میں ڈی پی او صوابی اور ٹیم نے سائنٹیفک طریقے سے واقعے کی تفتیش شروع کی جس میں ایک ملزم عزیز خان اور ملزم داؤد کو گرفتار کرکے وقوعہ میں استعمال ہونے والی ایک گاڑی بھی قبضہ میں لے لی ہے۔
میڈیا سے بات کرتے ہوئے انہوں نے مزید بتایا کہ ملزمان نے دوران تفتیش تمام حقائق اگل دیے ہیں۔ سردست دیگر ملزمان کے نام صیغہ راز میں رکھتے ہوئے ان کی گرفتاری کے لئے کوششیں تیز کردی گئی ہیں اور بقیہ ملزمان بھی جلد پولیس کی گرفت میں ہوں گے۔