لکی مروت میں پیر کو تھانہ پیزو کی پولیس موبائل وین پر دہشت گردوں کے حملے میں دو پولیس اہلکار شہید ہوگئے۔جبکہ تین اہلکار زخمی بھی ہوئے۔
پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ گاڑی معمول کے گشت پر تھی، دہشت گردوں نے گھات لگا کر حملہ کیا، پولیس کی بھاری نفری نے موقع پر پہنچ کر علاقے کو گھیرے میں لے لیا۔
دوسری جانب سندھ میں دہشت گردی کرنے والے عناصر کے خلاف گھیرا مزید تنگ کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا ہے، اب صرف دہشتگرد نہیں ماسٹرمائنڈ کے خلاف بھی مقدمات درج ہونگے۔
ڈی آئی جی سی ٹی ڈی ذوالفقار لاڑک کا کہنا ہے کہ اب صرف دہشت گرد نہیں ماسٹرمائنڈ کے خلاف بھی مقدمات درج ہونگے، مقدمات میں دہشت گردی کے علاوہ ٹیرر فنانسنگ کی سیکشن شامل ہونگیں۔
ڈی آئی جی سی ٹی ڈی نے کہا کہ دہشتگردی کے ہر واقعے کی باقاعدہ فنڈنگ کی جاتی ہے، ٹیرر فنانسنگ میں صرف کیش فنڈنگ کا تصور آتا ہے،اب مٹیریل ایویڈنس پر بھی مکمل تفتیش کی جائیگی۔
انہوں نے کہا کہ مٹیریل ایویڈنس کا مطلب دہشتگرد نے کیا خریدا؟ کہاں ٹھہرا؟ موٹرسائیکل یا کار کیسے اور کس سے خریدی؟ گھر کیسے کرائے پرحاصل کیا، یہ سب چیزیں شامل ہیں۔
مزید پڑھیں:سی ٹی ڈی کی سچل میں کارروائی، کالعدم تنظیم کے 2 دہشتگرد گرفتار
ڈی آئی جی سی ٹی ڈی نے کہا کہ دہشتگردی کیسز میں ٹیرر فنانسنگ کا الگ قانون ہے، جہاں سے فنڈنگ ہوتی ہے اس کے خلاف بھی مقدمہ درج ہوگا، انہوں نے کہا کہ اصغر شاہ اور ذوالفقار خاصخیلی دہشتگردوں کے ماسٹر مائنڈ ہیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








