کراچی :انجینئرنگ کونسل آف پاکستان کی جانب سے مسترد کردہ 2 افسران کے ڈی اے کے شعبہ انجینئرنگ میں عہدوں پر برقرار، ادارہ ترقیات کراچی میں لوٹ مار کی کھلی چھوٹ مل گئی۔
عوام اور ادارے کو نقصان پہنچنے کا امکان ہے، دونوں ایکسیئن عبدالمنان اور طارق رفیع مبینہ کرپشن میں بھی ملوث بتائے جاتے ہیں۔
ذرائع کے مطابق کروڑوں کی بوگس بلنگ اور جعلی ٹینڈرنگ میں ملوث ان ڈپلومہ ہولڈرز کو محبوب عالم نے بلا جواز اب تک عہدوںپر رکھا ہوا ہے اور غیر قانونی طور پر گریڈ 17 سے نواز رکھا ہے ۔
ادارہ ترقیات کراچی کے ڈپلومہ ہولڈرانجینئرز ( ایکسیئن ) عبدالمنان اور طارق رفیع کی سند یافتہ انجینئرکا لائسنس حاصل کرنے کی درخواست انجینئرنگ کونسل پاکستان نے بلاک کردی ہے۔
طارق رفیع اور عبدلمنان اپنے اپنے کاموں کے خود ہی ٹینڈر بھی کھولتے ہیں اور اس میں کسی اعلیٰ افسر کی مداخلت نہیں ہوتی جس کے باعث یہ دونوں اپنے اپنے کاموں میں زیادہ اور کم بولی والوں سے سودے بازی میں مصروف ہیں۔
حیرت انگیز بات یہ ہے کہ یہ سارے معاملات چیف انجینئر کے ڈی اےمبین صدیقی کے سامنے جاری ہیں اور ذرائع کا کہنا ہے کہ اس میں ایک بڑا حصہ مبین صدیقی چیف انجینئر کے ڈی اے کو بھی پہنچایا جاتا ہے۔
ذرائع کے مطابق گزشتہ دنوں کے ڈی اے کے جعلی افسر ڈائریکٹر لینڈ رضا قائم خانی کی جعلی ملازمیت کو عدالت میں چیلنج بھی کیا جا چکا ہے تاہم وہ اپنی من مانیوں میں مصروف ہیں اور ڈائریکٹر جنرل کے ڈی اے کی خا ص نظر کرم کے باعث اب تک 2 اہم عہدوں پر براجمان ہیں ۔