غزہ میں دو سالہ قیامت؛ کتنے شہید، کتنے خواب راکھ ہوئے؟ ہولناک اعداد و شمار سامنے آگئے

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ فائل)

اقوامِ متحدہ کے ادارے یو این آر ڈبلیو اے (انروا) نے اسرائیل کے جاری حملوں کے 2سالوں کی تکمیل پر 2 سالہ خونریز جنگ کے خوفناک اعدادوشمار جاری کردئیے ہیں جس میں بد ترین حالاتِ زندگی کا سامنا کرنے والے فلسطینیوں کی کسمپرسی عیاں ہوگئی۔

تفصیلات کے مطابق یو این آر ڈبلیو اے نے 2سالہ جنگ پر غزہ کی تباہی کا تفصیلی حقائق نامہ جاری کردیا جس میں ہوشربا انکشافات کیے گئے ہیں۔اقوامِ متحدہ کے ادارے کی رپورٹ کے مطابق غزہ کی80 فیصد عمارتیں تباہ ہوگئیں۔اقوامِ متحدہ کے مراکز میں پناہ لینے والے 845فلسطینیوں کو شہید گیا۔

انروا کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق اسرائیلی حملوں میں انروا کے 37 سے زائد ملازمین شہید کیے گئے۔ طبی عملے اور aسپتالوں پر 790 سے زائد اسرائیلی حملے ریکارڈ کیے گئے۔ 22 میں سے صرف 4یو این آر ڈبلیو اے ہیلتھ سینٹرز فعال ہیں۔

اقوامِ متحدہ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ غزہ کی 98فیصد زرعی زمین تباہ یا ناقابلِ رسائی ہوچکی ہے۔ پانی اور صفائی کے 90فیصد سے زائد نظام تباہ ہوچکے ہیں۔ 5 لاکھ خواتین اور بچیاں بنیادی حفظانِ صحت سے متعلق اشیاء سے محروم ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 40فیصد سے زائد فلسطینی خاندان کچرے کے ڈھیروں کے قریب زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں۔ 6 لاکھ 60 ہزار بچے مسلسل تیسرے سال تعلیم سے محروم ہیں۔ 92 فیصد اسکولوں کی عمارات کو ازسر نو مکمل طور پر تعمیر کرنا پڑے گا۔ انروا کے 90فیصد اسکول تباہ ہوچکے ہیں۔

Related Posts