متحدہ عرب امارات نے گولڈن ویزا کے لیے ایک نئی کیٹیگری متعارف کرادی ہے جو انسانیت، فلاحی اور سماجی خدمات انجام دینے والے افراد کو اعزاز دینے کے لیے مخصوص ہوگی۔
یہ اقدام امارات کی اُس وسیع تر حکمتِ عملی کا حصہ ہے جس کا مقصد سماجی ذمہ داری کو فروغ دینا اور معاشرتی ترقی میں کردار ادا کرنے والے شہریوں اور غیر ملکیوں کی حوصلہ افزائی کرنا ہے۔
سرکاری اعلان کے مطابق وہ افراد جو فلاحی مقاصد کے لیے اوقاف (وقف) عطیہ کرتے ہیں، اب گولڈن ویزا کے لیے اہل قرار دیے جا سکیں گے۔
یہ پروگرام دبئی کی جنرل ڈائریکٹوریٹ آف آئیڈینٹیٹی اینڈ فارنرز افیئرز (جی ڈی آر ایف اے دبئی) اور اوقاف و امورِ قصّر فاؤنڈیشن (اوقاف دبئی) کے اشتراک سے شروع کیا گیا ہے۔
اس منصوبے کے تحت اوقاف دبئی اُن اہل عطیہ دہندگان کی نشاندہی کرے گا جو کابینہ کے قرارداد نمبر (65) برائے 2022 میں بیان کردہ شرائط پر پورا اترتے ہوں گے۔
ان درخواستوں کی جانچ اور منظوری کے بعد جی ڈی آر ایف اے دبئی کی جانب سے انہیں طویل المدتی رہائشی ویزے جاری کیے جائیں گے۔
دونوں اداروں کے عہدیداران کا کہنا ہے کہ یہ اقدام متحدہ عرب امارات کے اُس وژن کا مظہر ہے جس کے تحت وہ عالمی سطح پر انسانی خدمت اور خیرات کے مرکز کے طور پر اپنی پہچان کو مزید مضبوط بنانا چاہتا ہے۔
مزید یہ کہ حکومت اُن افراد کی خدمات کو تسلیم کر رہی ہے جو پائیدار اور بامقصد منصوبوں کے ذریعے معاشرے کی بہتری میں کردار ادا کر رہے ہیں۔
اس مقصد کے لیے ایک مشترکہ کمیٹی تشکیل دی جائے گی جو اس پروگرام کے مؤثر نفاذ، سماجی اثرات کی نگرانی اور اس کی طویل المدتی افادیت کا جائزہ لے گی۔
اس نئے اقدام کے ذریعے متحدہ عرب امارات نے سخاوت، پائیداری اور سماجی ترقی کی قدروں کو مزید اجاگر کیا ہے اور اُن افراد کے لیے گولڈن ویزا کا دروازہ کھول دیا ہے جو انسانیت کی فلاح و بہبود کے لیے دیرپا خدمات انجام دیتے ہیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








