پاکستان میں متحدہ عرب امارات کے درہم کی اوپن مارکیٹ میں خرید و فروخت کی موجودہ قیمتیں بالترتیب 77اعشاریہ 60 روپے اور 78اعشاریہ 15 روپے رپورٹ کی گئی ہیں۔
پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے درمیان کرنسی کا تبادلہ دونوں ممالک کے درمیان مضبوط مالیاتی اور محنت کش تعلقات کے باعث نمایاں اقتصادی اہمیت رکھتا ہے۔
لاکھوں پاکستانی شہری یو اے ای میں ملازمت یا کاروبار کر رہے ہیں اور ہر ماہ اربوں روپے وطن بھیجتے ہیں جو پاکستانی معیشت کا ایک مضبوط سہارا ہیں۔
مئی 2025 کے دوران متحدہ عرب امارات میں مقیم پاکستانیوں نے مجموعی طور پر 754اعشاریہ 2 ملین امریکی ڈالر وطن بھیجے، جو کہ اس ماہ کی ترسیلات زر کے چارٹ میں سعودی عرب کے بعد دوسرا بڑا حصہ تھا۔
پاکستانی روپے اور اماراتی درہم کے درمیان تبادلہ نرخ براہ راست ان پاکستانی خاندانوں کو متاثر کرتا ہے جو بیرون ملک مقیم عزیز و اقارب کی جانب سے ترسیلات پر انحصار کرتے ہیں۔
موافق ایکسچینج ریٹ کے نتیجے میں محنت کش زیادہ مالیت وطن بھیج سکتے ہیں جس سے گھریلو اخراجات، تعلیم، علاج اور چھوٹے کاروباروں میں سرمایہ کاری کو فروغ ملتا ہے۔
اس کے علاوہ پاکستان کی کئی تجارتی کمپنیاں امارات سے الیکٹرانکس، پیٹرولیم مصنوعات اور تعمیراتی سامان درآمد کرتی ہیں۔
کرنسی کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ ان اشیاء کی درآمدی لاگت اور مقامی بازاروں میں قیمتوں کو براہ راست متاثر کرتا ہے۔
اسی طرح پاکستان اور یو اے ای کے درمیان سیاحت، کاروباری سفر اور فضائی آمدورفت کا انحصار بھی مستحکم کرنسی تبادلہ نظام پر ہے۔
موجودہ ریٹ کا استحکام نہ صرف ترسیلات پر انحصار کرنے والے گھرانوں کے لیے فائدہ مند ہے بلکہ پاکستان کی مجموعی معیشت پر بھی مثبت اثر ڈال سکتا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








