برطانوی حکومت ایک رضاکارانہ منصوبے کے تحت پناہ کے متلاشیوں کو روانڈا بھیجنے کیلئے 3000 پاؤنڈز فی کس تک ادا کرنے کا منصوبہ بنا رہی ہے تاکہ ان پناہ گزینوں کومدد ملے جن کی درخواستیں مسترد ہو چکی ہیں۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کی رپورٹ کے مطابق روانڈا کے ساتھ نیا معاہدہ پناہ کے متلاشیوں کو زبردستی ملک بدر کرنے کے منصوبے سے الگ ہے، جسے گزشتہ سال برطانیہ کی سپریم کورٹ نے غیر قانونی قرار دیا تھا۔
نیا معاہدہ یہ ایک موجودہ حکومتی پالیسی کی عکاسی کرتا ہے، جہاں پناہ کے متلاشیوں کو ان کے آبائی ملک کے لیے برطانیہ چھوڑنے کے لیے مالی مدد کی پیشکش کی جاتی ہے لیکن نئے منصوبے کے تحت لوگ روانڈا میں رہنے کے لیے راضی ہونے پر رقم حاصل کریں گے۔
برطانوی وزیر کیون ہولنریک کا کہنا ہے کہ نئی پالیسی عوام کے پیسے کا اچھا استعمال ہے کیونکہ یہ برطانیہ میں ایسے لوگوں کی دیکھ بھال کے اخراجات سے سستی ہے جنہیں پناہ دینے سے انکار کر دیا گیا تھا۔
ان کا کہنا ہے کہ برطانیہ میں ایسے لاکھوں پناہ کے متلاشی ہیں گوکہ 3000 پاؤنڈیقیناً یہ بہت زیادہ رقم ہے لیکن یہ بھی درست ہے کہ ایسے لوگوں کو برطانیہ میں رکھنے کے لیے بہت زیادہ رقم خرچ ہوتی ہے ۔
برطانوی وزیراعظم کا کہنا ہے کہ روانڈا میں فی الحال برطانیہ سے ہر سال چند سو پناہ گزینوں کو قبول کرنے کی صلاحیت ہے، وقت کے ساتھ ساتھ اس صلاحیت میں اضافہ کیا جا سکتا ہے۔ رشی سوناک نے کہا کہ انکی خواہش ہے کہ ملک بدری کی پہلی پروازیں جلد روانہ ہوں تاکہ منصوبے کو عملی شکل دی جاسکے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








