یونیورسٹی کے طلبہ کا مفت کھانے پر دھاوا، شادی کی تقریب کو تہس نہس کردیا

تازہ ترین

تازہ ترین

فوٹو انڈین میڈیا

شادی بنی میدان جنگ، لکھنؤ یونیورسٹی کے طالب علموں نے مفت کھانا کھانے کے لالچ میں ایک شادی کی تقریب کو تہس نہس کر دیا۔

بھارتی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق رامادھن انٹر کالج میں منعقد ہونے والی شادی کی تقریب اس وقت برباد ہوئی جب طلباء اور شادی میں آئے مہمان آپس میں اُلجھ پڑے۔ جھگڑے کے دوران پتھروں، ممکنہ طور پر گھریلو ساختہ بموں اور فائرنگ بھی کی گئی۔

رپورٹ کے مطابق واقعے کی اطلاع پر جب پولیس معاملے کو قابو کرنے وہاں پہنچی تو طلبا نے انہیں بھی پکڑ کر تشدد کا نشانہ بنایا۔

حسن گنج کے اسٹیشن ہاؤس آفیسر (ایس ایچ او) دلیش کمار کے مطابق پریشانی اس وقت شروع ہوئی جب مبینہ طور پر کچھ طلباء نے تقریب میں شریک ہونے کے لیے شادی ہال کا گیٹ توڑ دیا۔ پولیس کے مطابق جب اہلخانہ نے اعتراض کیا تو طالب علم آپے سے باہر ہوگئے۔

دولہے کے والد نے الزام لگایا کہ طالب علموں کی جانب سے جیولری اور پیسے بھی لوٹے گئے، یہاں تک کہ خواتین کو ہراساں بھی کیا گیا۔

میدان جنگ بننے والی شادی میں تصادم مختصر وقت کے لیے رکا لیکن تھوڑی ہی دیر بعد چند نوجوانوں کا مشتعل گروپ دوسرے دروازے سے اندر داخل ہوا اور دوبارہ ہنگامہ شروع کر دیا۔

پولیس کے مطابق انہوں نے مشتعل افراد کی شناخت کے لیے تحقیقات شروع کر دی ہیں، جو لکھنؤ یونیورسٹی کے طالب علم بتائے جاتے ہیں۔ ان کی شناخت کی تصدیق ہونے کے بعد مزید کارروائی کی جائے گی۔

Related Posts