صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ستمبر میں پاکستان کے مبینہ دورے سے متعلق خبروں نے پاکستانی میڈیا اور سوشل پلیٹ فارمز پر خاصا ہلچل مچائی تاہم یہ خبر مکمل طور پر بے بنیاد اور غیر مصدقہ نکلی۔
پاکستان کی وزارتِ خارجہ اور وائٹ ہاؤس دونوں نے ایسی کسی بھی منصوبہ بندی سے لاعلمی کا اظہار کیا ہے۔سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ان خبروں میں یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ آئندہ ماہ بھارت کے دورے سے قبل پاکستان آئیں گے۔
مقامی ٹی وی چینلز نے بھی ذرائع کے حوالے سے یہ خبر نشر کی تاہم نہ تو امریکی سفارت خانے کی طرف سے کوئی تصدیق کی گئی اور نہ ہی پاکستانی حکام نے اس کی تصدیق کی۔
وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے اپنے مختصر بیان میں واضح کیا کہ ہمیں صدر ٹرمپ کے کسی متوقع دورۂ پاکستان سے متعلق کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔
وائٹ ہاؤس کے ترجمان نے بھی کہا کہ اس قسم کا کوئی شیڈول موجود نہیں اور نہ ہی ایسی کوئی بات زیرِ غور ہے۔
جعلی خبریں کس مقصد کے لیے پھیلائی جاتی ہیں؟
میڈیا تجزیہ کاروں کے مطابق ایسی غیر مصدقہ خبریں بعض اوقات ریٹنگ بڑھانے، عوامی توجہ حاصل کرنے یا سیاسی افواہیں پھیلانے کے لیے جان بوجھ کر وائرل کی جاتی ہیں۔ فیک نیوز کا یہ کلچر نہ صرف عوام کو گمراہ کرتا ہے بلکہ ریاستی اداروں کی ساکھ کو بھی متاثر کرتا ہے۔
کیا ان خبروں کے پھیلانے والے قانون کی گرفت سے باہر ہیں؟
صحافتی اور قانونی ماہرین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ فیک نیوز کی روک تھام کے لیے سائبر کرائم قوانین کو فعال بنایا جائے، تاکہ ایسی جعلی اور غیر مصدقہ خبروں کو پھیلانے والوں کے خلاف کارروائی ہو سکے۔
صدر ٹرمپ کا ستمبر میں پاکستان کا دورہ فی الحال حقیقت نہیں بلکہ افواہ نکلا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ عوام اور میڈیا ذمہ داری کا مظاہرہ کریں اور تصدیق شدہ خبروں کو ہی آگے پھیلائیں، کیونکہ غیر ذمہ دار رپورٹنگ اعتماد کو ٹھیس پہنچاتی ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








