امریکا ایران مذاکرات کا دوسرا راؤنڈ بھی اسلام آباد میں؟ تیاریاں تیز کردی گئیں

تازہ ترین

تازہ ترین

امریکا ایران مذاکرات
(فوٹو: آن لائن)

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں امریکا ایران مذاکرات کسی معاہدے تک پہنچے بغیر ختم ہوگئے، جس کے بعد مذاکرات کا دوسرا راؤنڈ بھی ہوگا، جس کیلئے اسلام آباد کو پہلا آپشن قرار دیا گیا ہے، تیاریاں تیز کردی گئیں۔

تفصیلات کے مطابق امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کی قیادت میں امریکی نمائندہ اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر سمیت دیگر اعلیٰ حکام کے مقابلے میں ایران کی جانب سے ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کی قیادت میں ایرانی وفد بھی اسلام آباد پہنچا جس میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی بھی شامل تھے، تاہم مذاکرات کے نتیجے میں معاہدہ نہ ہوسکا۔

ایک جانب امریکا نے کوشش کی کہ ایران جوہری افزودگی کے حق سے دستبردار ہوجائے اور اسے جوہری طاقت کے قریب تک پھٹکنے سے روک دیا جائے تو دوسری جانب ایران نے واضح کیا کہ پر امن مقاصد کیلئے جوہری افزودگی اس کا حق ہے اور وہ اپنے عوام کے حقوق سے دستبردار نہیں ہوں گے۔ سی این این کا کہنا ہے کہ امریکی حکام ایرانی وفد کے ساتھ دوسری ملاقات پر سنجیدگی سے غور کر رہے ہیں۔

توقع کی جارہی ہے کہ امریکا اور ایران کے مابین مذاکرات کا دوسرا راؤنڈ بھی اسلام آباد میں ہوگا، تاہم مذاکراتی مقام کیلئے دوسرا آپشن عمان یا پھر مشرق وسطیٰ کا کوئی اور ملک بھی ہوسکتا ہے، تاہم یہ ضروری ہے کہ دونوں ہی فریقین اس ملک کی میزبانی اور ثالثی پر اعتماد کریں۔ یہی وجہ ہے کہ مذاکرات کیلئے دوسری بار بھی اسلام آباد کا انتخاب زیادہ قابل عمل نظر آتا ہے۔

مذاکرات کس مقام پر؟ جیسے سوال کا جواب ملنے کے بعد اگلا اہم ترین سوال یہ رہ جاتا ہے کہ یہ مذاکرات کب ہوں گے؟ اس پر ذرائع کے حوالے سے سامنے آنے والی میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ مذاکرات کا دوسرا راؤنڈ زیادہ دور نہیں کیونکہ پاکستان، مصر اور ترکی سمیت دوست ممالک مذاکرات کا دوسرا راؤنڈ رواں ہفتے ہی کرانے کی کوشش کر رہے ہیں اور پہلے راؤنڈ کے بعد سے دونوں فریقین میں بہت حد تک مفاہمت کا عنصر بھی دیکھا جارہا ہے۔

سی این این کا کہنا ہے کہ امریکی حکام جنگ بندی مدت ختم ہونے سے قبل ہی ایرانی وفد سے جنگ بندی پر دوسری بار ملاقات کیلئے غور کر رہے ہیں جبکہ واشنگٹن میں لبنان اور اسرائیل کے مابین جنگ بندی کیلئے براہِ راست مذاکرات آج ہوں گے۔ امریکی محکمہ خارجہ کا کہنا ہے کہ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو بھی ان مذاکرات کا حصہ بنیں گے جس سے لبنان میں جنگ بندی کے امکانات روشن ہوگئے ہیں۔

Related Posts