امریکی فوجی کنٹریکٹر چین کیلئے جاسوسی کرتے ہوئے پکڑا گیا

تازہ ترین

تازہ ترین

ایک چینی فوجی اہلکار، فائل فوٹو
ایک چینی فوجی اہلکار، فائل فوٹو

جرمنی میں چین کو حساس معلومات فراہم کرنے پر ایک امریکی فوجی کنٹریکٹر کو دو سال اور آٹھ ماہ قید کی سزا سنا دی گئی۔ وہ امریکی فوجی مرکز پر سویلین کنٹریکٹر کے طور پر کام کر رہا تھا۔

مدعا علیہ جس کا صرف جزوی نام مارٹن ڈی بتایا گیا ہے، کو مغربی شہر کوبلنز کی ایک عدالت میں مقدمے کے لیے پیش کیا گیا جس کی کارروائی جزوی طور پر بند دروازوں کے پیچھے ہوئی۔

استغاثہ نے الزام لگایا کہ 2024 میں مارٹن ڈی نے “کئی بار چینی سرکاری ایجنسیوں سے رابطہ کیا اور امریکی فوج سے حساس معلومات چینی انٹیلی جنس سروس کو دینے کی پیشکش کی۔”

فردِ جرم کے مطابق اس شخص نے 2017 اور 2023 کے درمیان امریکی محکمہ دفاع کے ٹھیکیدار کے طور پر بشمول کم از کم 2020 سے جرمنی میں امریکی فوجی مرکز پر کام کیا۔

اسے جرمن پولیس نے نومبر 2024 میں فرینکفرٹ سے گرفتار کیا تھا اور تب سے اسے زیرِ حراست رکھا گیا تھا۔

یوکرین پر 2022 کے مکمل روسی حملے کے بعد سے جرمنی میں روس سے منسلک جاسوسی کے مشتبہ واقعات میں اضافہ دیکھا گیا ہے اور جرمن حکام نے ماسکو پر “ہائبرڈ جنگ” چھیڑنے کا الزام لگایا ہے جس کی ماسکو تردید کرتا ہے۔

لیکن چین سے منسلک جاسوسی کے کئی کیسز بھی سامنے آئے ہیں اور برلن کے بیجنگ کے ساتھ تعلقات بڑھتے ہوئے دباؤ میں ہیں۔

چین سے تعلق رکھنے والے انتہائی اعلیٰ سطحی مقدمے میں جرمنی کے انتہائی دائیں بازو کے سیاست دان میکسمیلیان کراہ کے ایک سابق معاون کو ستمبر میں چار سال اور نو ماہ قید کی سزا سنائی گئی۔ اس پر جاسوسی کا الزام تھا۔

ڈریسڈن کی ایک عدالت نے جیان گو کو ایک چینی انٹیلی جنس سروس کے ایجنٹ کے طور پر کام کرنے کا مجرم قرار دیا جبکہ وہ جرمنی کی اے ایف ڈی پارٹی کے رکن کراہ کے لیے کام کر رہا تھا۔

Related Posts