اسلام آباد : وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ امریکا اور طالبان کے درمیان ہونے والے امن معاہدے میں پاکستان کے کردار کو سراہا جا رہا ہے اور جو تنقید کرتے تھے وہ پاکستان کے معترف تھے،امن معاہدے سے انٹرا افغان ڈائیلاگ کا آغاز ہوگا۔
ناروے نے انٹرا افغان ڈائیلاگ کی میزبانی کی حامی بھری ہے،افغانستان کے عوام امن چاہتے ہیں ، اب قیادت کی آزمائش آئے گی، دیکھنا ہے کہ یہ قیادتیں کتنی لچک دکھاتی ہیں، کیا مقامی قیادتیں وسیع تر مفاد کے لیے سمجھوتہ کرنے کو تیار ہیں؟۔
اگر افغانستان میں امن ہوگا تو وہاں کے عوام سکھ کا سانس لیں گے،پاکستان کی رائے میں معاہدہ اہم پیشرفت ہے، معاہدے پر طالبان اور امریکی حکام کو مبارکباد پیش کرتا ہوں،افغانستان میں امن سے پاکستان کو بھی فوائد حاصل ہوں گے۔
پاکستان چاہتا ہے کہ اس کی سرزمین میں موجود افغان پناہ گزینوں کی واپسی ہو،امید ہے بھارت سمیت کوئی پاکستان کے خلاف افغان سر زمین استعمال نہیں کرے گا۔
اتوار کو پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہاکہ کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا طالبان امریکا ایک میز پر ہوں گے ، انہوں نے کہا کہ گزشتہ روز دوحہ میں پاکستان کے کردار کو سراہا گیا، پاکستان کے کردار کو تسلیم بھی کیا گیا، تعریف بھی کی گئی۔
شاہ محمود قریشی نے بتایا کہ میری امریکہ کے وزیرِ خارجہ مائیک پومپیو سے ملاقات ہوئی ہے، ان کے سامنے تین چار نکات رکھے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ میں نے پومپیو سے کہا ہے کہ نقصان پہنچانے والے اب بھی ہیں، ان پر نظر رکھنا ہوگی، ایسا طریقہ کار اپنانا ہوگا کہ منفی کردار والوں کی نشاندہی ہو سکے۔
شاہ محمود قریشی نے کہا کہ انٹرا افغان ڈائیلاگ میں تاخیر نہیں ہونی چاہیے، جو امید پیدا ہوئی ہے وہ زندہ رہے، لوگوں کا اعتماد بحال رہے۔
انہوں نے کہاکہ معاہدہ امن کی طرف پہلا ٹھوس قدم تھا ،میں مبارکباد دوں گا طالبان اور امریکی حکام کو جنہوں نے مسلسل کاوش کے بعد یہ سفر طے کیا ،اس سے ایک بین الافغان مزاکرات کا آغاز ہو گا اس کے حولے سے جس سازگار ماحول کی ضرورت تھی گزشتہ روز کے معاہدے نے وہ پیدا کر دیا ہے، ناروے کی وزیر خارجہ سے آیندہ قدم کے حوالے سے بات چیت ہوئی،ناروے نے انٹرا افغان ڈائیلاگ کی. میزبانی کی پیش کش کر دی ہے۔
انہوں نے کہاکہ انٹرا افغان مزاکرات کے لئے معاون ماحول پیدا کرنا ہوگا، ہم دعاگو ہیں کہ افغان اس پر اتفاق کریں کہ وہ کیسا افغانستان دیکھنا چاھتے ہیں، دیکھنا ہوگا کہ افغان قیادت کتنی لچک دکھاتی ہے، دوحہ میں جو ماحول تھا وہاں پاکستان کے کردار کو سراہا گیا۔
وزیرخارجہ پومپیو سے ملاقات کی اور تین چار نکات رکھے، پہلا نکتہ یہ رکھا کہ اس معاھدے کو خراب کرنے والوں پر نظر رکھنا ہوگی جو افغانستان کے اندر اور باھر سے ہیں، ماحول خراب ہونے والوں کے خلاف میکنزم رکھنا ہوگا، معاہدہ کے بعد جو مومینٹم بنا ھے اسے جاری رکھنا ہوگا، قیدیوں کی رھائی کو جلد ممکن بنانا ہوگا تاکہ اعتماد بڑھے،معاہدے کے اگلے مرحلے پر بروقت عمل ہونا چاہئے۔
شاہ محمود قریشی نے کہاکہ پہلا نقطہ یہ تھا کہ افغان معاہدے کو خراب کرنے والا پر نظر رکھنا ہوگی ،افغان طالبان معاہدے کے بعد انژا افغان مذاکرات میں تاخیر نہ ہو تاکہ مومیٹم برقرار رہے بے یقینی کو ختم کرنا ہوگا ۔
انہوں نے کہاکہ داخلی سیاست کو امن پر حاوی نہ ہونے دیا جائے مائیک پومپیو کو بتایا ،امریکہ اس میں تعاون کر سکتا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ افغانستان کی تعمیر اور مہاجرین کی باعزت واپسی پر بات ہوئی ہے ،تاجکستان ترکمانسان سمیت دیکر وسط ایشیائی ریاستوں کے وزرائے خارجہ سے ملاقاتیں ہوئیں۔
انہوں نے کہاکہ جہاں تک افغانستان کی عوام کا تعلق ہے وہ امن چاہتے ہیں کیوں کہ انہوں نے بہت دزواریاں دیکھی ہیں ،دیکھنا ہے کہ قیادتیں کس حد تک تیار ہیں ۔
انہوں نے کہاکہ دیکھنا ہو گا کہ معاہدے مین کی جانے والی کمٹمنٹس کو کس حد تک ہورا کیا جائیگا ۔انہوں نے کہاکہ دیکھنا ہو گا کہ کیا طالبان القاعدہ اور دیگر عالمی دہشتگردوں سے روابط کو منقطع کرتے ہیں ،دیکھنا ہے کہ تشدد میں کمی کا تسلسل برقرار رہتا ہے۔
مزید پڑھیں: افغان امن مسئلے پر وزیر اعظم عمران خان کا مؤقف درست ثابت ہوا۔پاکستان
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








