پاکستان آٹو موٹیو پارٹس اینڈ ایکسیسریز مینوفیکچررز ایسوسی ایشن نے حالیہ دنوں میں آئی ایم ایف کی جانب سے نئی تجارتی شرائط پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔
پی اے اے پی اے ایم کے چیئرمین عثمان اسلم ملک نے کہا کہ تجارتی آزادی صنعتوں کی تباہی اور مالیاتی رساؤ کی قیمت پر نہیں ہونی چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ استعمال شدہ گاڑیوں کی بڑے پیمانے پر درآمد جو اکثر جدید حفاظتی اور ماحولیاتی معیار پر پورا نہیں اترتیں، پاکستان میں نیو انرجی وہیکلز (NEVs) کی مقامی تیاری کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔
کیا جرمن آٹو انڈسٹری ڈوب رہی ہے؟ امریکا اور چین کے مقابلے کیلئے جرمن حکام سر جوڑنے پر مجبور
ایسوسی ایشن نے یہ وضاحت بھی طلب کی ہے کہ ایسے درآمدی اقدامات کس طرح قومی استحکام اور صنعتی اہداف سے ہم آہنگ ہیں۔
مزید برآں پی اے اے پی اے ایم نے سوال اٹھایا کہ آیا تجارتی آزادی تمام شعبوں میں لاگو کی جا رہی ہے یا صرف آٹو موٹیو سیکٹر کو ہی ہدف بنایا جا رہا ہے۔ اگر یہ پابندی صرف گاڑیوں تک محدود ہے تو پالیسی سازوں کو اس مارکیٹ میں بگاڑ کی منطق اور فریم ورک واضح کرنا چاہیے۔
پی اے اے پی اے ایم نے موجودہ درآمدی اسکیموں کی کمزوریوں کی بھی نشاندہی کی، جہاں بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کے نام پر لائی جانے والی گاڑیاں مقامی طور پر بیچ دی جاتی ہیں، اس طرح ٹیکس اور ریگولیٹری نگرانی سے بچا جاتا ہے۔ اسی طرح ہنڈی جیسے غیر رسمی ذرائع کے ذریعے ادائیگیوں سے سرمائے کا انخلا اور مالی شفافیت کو نقصان پہنچ رہا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








