اسلام آباد: وفاقی حکومت کی ہدایات پر پاکستان بھر میں یوٹیلیٹی اسٹورز کارپوریشن کا مکمل آپریشن بند کر دیا گیا جس کے نتیجے میں ہزاروں ملازمین بیروزگار ہو گئے ہیں۔
یوٹیلیٹی اسٹورز بورڈ آف ڈائریکٹرز نے بھی اس فیصلے کی توثیق کرتے ہوئے ادارے کی تمام تجارتی اور انتظامی سرگرمیوں کو غیر معینہ مدت کے لیے معطل کر دیا ہے۔
یکم اگست 2025 سے ملک بھر کے تمام یوٹیلیٹی اسٹورز پر اشیائے خور و نوش، روزمرہ ضروریات کی اشیا اور سبسڈی والے سامان کی فروخت مکمل طور پر ختم کر دی گئی ہے۔
ان اشیا کو متعلقہ ویئرہاؤسز میں منتقل کیا جا چکا ہے۔ ساتھ ہی یوٹیلیٹی اسٹورز کارپوریشن کا مرکزی ڈیجیٹل سسٹم بھی بند کر دیا گیا ہے جس سے ادارے کی تمام سرگرمیاں مکمل ٹھپ ہو گئی ہیں۔
اس پیش رفت پر قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے صنعت و پیداوار کے اجلاس میں سخت تشویش کا اظہار کیا گیا۔
ایم این اے اعجاز جاکھرانی نے معاملہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی وزیر نے قومی اسمبلی میں وعدہ کیا تھا کہ یوٹیلیٹی اسٹورز بند نہیں کیے جائیں گے، مگر اس کے باوجود بندش کا اعلان کیا گیا۔
کمیٹی اراکین نے سوال اٹھایا کہ پارلیمانی ہدایات کو نظر انداز کر کے کیسے ادارے کو بند کیا جا سکتا ہے؟ اجلاس میں بلاول بھٹو زرداری کے بیان کا بھی حوالہ دیا گیا جس میں انہوں نے یوٹیلیٹی اسٹورز ملازمین سے ملاقات اور ان کے تحفظات کے حل کی ہدایت کی تھی۔
سیکریٹری صنعت و پیداوار نے اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ یوٹیلیٹی اسٹورز میں گزشتہ چند سالوں سے مالی نقصانات میں اضافہ ہو رہا تھا، جنہیں مزید سنبھالنا ممکن نہیں رہا۔ ان کے مطابق ادارہ پہلے بھی نقصان میں تھا، مگر حالیہ مہینوں میں مالی خسارہ شدید ہو گیا ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ حکومت ملازمین کے لیے رضاکارانہ علیحدگی اسکیم متعارف کروا رہی ہے جس کے تحت تمام مستقل ملازمین کو ایک مخصوص مالی پیکج کی پیشکش کی جائے گی۔ اس حوالے سے سمری تیار کر کے وزارت صنعت و پیداوار کو ارسال کر دی گئی ہے۔
یوٹیلیٹی اسٹورز کی بندش نے نہ صرف ادارے کے ہزاروں ملازمین کو بےروزگاری کے خطرے سے دوچار کر دیا ہے بلکہ مہنگائی کے دور میں وہ لاکھوں صارفین بھی متاثر ہو رہے ہیں جو ان اسٹورز سے سستی اور سبسڈی والی اشیا خریدتے تھے۔ خصوصاً نچلے اور متوسط طبقے کے افراد اس فیصلے سے سب سے زیادہ متاثر ہوں گے۔
ادارے کے ملازمین نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر اپنا فیصلہ واپس لے، ملازمین کا تحفظ یقینی بنائے اور عوام کو بنیادی اشیا کی فراہمی جاری رکھنے کے لیے متبادل بندوبست کرے۔
یوٹیلیٹی اسٹورز کی بندش ایک اہم حکومتی فیصلہ ہے جو ملک میں سبسڈی کے نظام، غربت سے لڑنے کی حکمت عملی اور عوامی فلاحی اداروں کی بقا کے بارے میں نئے سوالات کھڑے کرتا ہے۔
آنے والے دنوں میں اس فیصلے کے اثرات مزید واضح ہوں گے اور یہ دیکھنا ہوگا کہ حکومت اس بحران کو کیسے سنبھالتی ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








