ویٹی کن نے پندرہ سالہ نوجوان کو ایک ہزار سالہ نسل کا پہلا کیتھولک ولی قرار دیدیا

تازہ ترین

تازہ ترین

فوٹو این بی سی

کیتھولک مسیحیوں کے عالمی روحانی مرکز ویٹیکن میں ایک تقریب کے دوران پوپ لیو نے 2006 میں لیوکیمیا کی بیماری سے انتقال کرنے والے 15 سالہ کارلو ایکوٹیس کو ایک ہزار سالہ جنریشن کا پہلا کیتھولک ولی قرار دیا۔ تقریب میں دنیا بھر سے آئے تقریباً 70 ہزار نوجوان شریک ہوئے۔

 ولی قرار پانے والا کارلو کون تھا؟

برطانوی نژاد اطالوی کارلو ایکوٹیس جو 15 سال کی عمر میں فوت ہوا، نے مسیحی عقیدے کو پھیلانے کے لیے کمپیوٹر کوڈنگ سیکھی تاکہ مشنری خدمات کیلئے ویب سائٹس بنا سکے۔ اس کی کہانی نے کیتھولک نوجوانوں کی بھرپور توجہ اپنی طرف مبذول کرائی اور اب وہ مدر ٹریسا اور فرانسس آف اسیسی کے برابر ولی (سینٹ) کے درجے پر فائز کردیے گئے ہیں۔

اتوار کے روز کیتھولک مسیحیوں کے پیشوا پوپ لیو نے کارلو ایکوٹیس کے ساتھ ساتھ پیئر جارجیو فراساتی کو بھی ولی کے درجے پر فائز کیا، جو ایک اطالوی نوجوان تھے، غرباء کی مدد کے لیے مشہور تھے اور 1920 کی دہائی میں پولیو سے وفات پا گئے تھے۔

تقریب کے آغاز پر ویٹیکن سٹی کے سینٹ پیٹرز اسکوائر میں عوام سے خطاب کرتے ہوئے پوپ لیو نے کہا کہ ایکوٹیس اور فراساتی تقدس اور محتاجوں کی خدمت کی مثال ہیں۔
پوپ نے نوجوان مجمع کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ سب، ہم سب مل کر ولی بننے کے لیے بلائے گئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کارلو کہا کرتا تھا کہ جنت ہمیشہ ہمارا انتظار کرتی ہے اور کل سے محبت کرنے کا مطلب ہے کہ آج ہم اپنی بہترین صلاحیتیں پیش کریں۔

پوپ کے مطابق یہ دونوں نئے ولی ہم سب کے لیے، خاص طور پر نوجوانوں کے لیے ایک دعوت ہیں کہ ہم اپنی زندگیاں ضائع نہ کریں بلکہ انہیں اوپر (خدا کی طرف) مرکوز کریں۔

کارلو ایکوٹیس کے ولی ہونے کا اعلان کئی کیتھولک نوجوانوں کے لیے کئی مہینوں سے بے چینی سے انتظار کا باعث بنا ہوا تھا۔ یہ تقریب اصل میں اپریل میں ہونا تھی لیکن پوپ فرانسس کی وفات کے بعد ملتوی کر دی گئی۔ اتوار کا یہ دن پوپ لیو کے انتخاب کے بعد ان کی سربراہی میں ہونے والی پہلی تقریب تھی۔

ولی بنانے کا مقصد کیا ہے؟

کسی کو ولی بنائے جانے کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ چرچ یہ یقین رکھتا ہے کہ اس شخص نے پاکیزہ زندگی گزاری اور اب وہ خدا کے ساتھ جنت میں ہے۔

مسیحی عقیدے کے مطابق دیگر نوجوان سینٹس میں تھیریس آف لیزیو شامل ہیں، جو 1897 میں 24 برس کی عمر میں وفات پا گئیں اور اپنی “چھوٹی راہ” (Little Way) کے ذریعے خیرات کے فروغ کے لیے مشہور ہوئیں اور آلوئیسس گونزاگا بھی ہیں جو 1591 میں 23 سال کی عمر میں روم میں وبا کے متاثرین کی خدمت کرتے ہوئے انتقال کر گئے۔

واضح رہے کہ جیسے جیسے کارلو ایکوٹیس چرچ کے باضابطہ راستے پر ولیت کی طرف بڑھتے گئے، ان کی لاش کو وسطی اٹلی کے پہاڑی قصبے اسیسی کے ایک چرچ میں منتقل کیا گیا، جہاں سینٹ فرانسس بھی مقیم رہے تھے اور یہ ایکوٹیس کی آخری خواہش تھی۔

نئے مسیحی ولی کی آخری آرام گاہ، جہاں ان کا جسم دفن ہے اور اس پر ان کی مشابہت والا مومی سانچہ رکھا گیا ہے، جس میں وہ اپنی ٹریک جیکٹ، جینز اور جوتوں کے ساتھ دکھائے گئے ہیں، آج کل دنیائے مسیحیت میں ایک مقبول زیارت گاہ بن چکی ہے، جہاں روزانہ ہزاروں عقیدت مند آتے ہیں۔

Related Posts