متاثرین سامنے آنا شروع، بدفعلی کیس میں کئی بچوں نے بیان ریکارڈ کروادیا، ہوشربا انکشافات

تازہ ترین

تازہ ترین

علامتی تصویر

کراچی میں کم عمر بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے کیس میں اب تک 9 متاثرین سامنے آچکے ہیں، جن کے بیانات بھی ریکارڈ کرلیے گئے ہیں۔

پولیس کے مطابق کیس میں ملزمان کی بدفعلی کا شکار بچوں میں سے اب تک نو متاثرہ بچوں کے دفعہ 164 کے تحت بیانات ریکارڈ کیے جاچکے ہیں۔

یہ تمام کیسز کراچی کے مختلف اضلاع سے رپورٹ ہوئے تھے اور بدفعلی کا نشانہ بننے والے بچوں کی عمریں بھی 10 سے 14 سال کے درمیان ہیں۔

ڈارک ویب سے تعلق؟ 100 بچوں سے زیادتی کے ملزم شبیر تنولی کے بارے میں ہولناک اور تہلکہ خیز انکشافات

کیس میں ہونے والی پیش رفت کے مطابق کیس کے تفتیشی افسر نے متاثرہ بچے کو ملزمان کی تصاویر دکھائیں، جس پر بچے نے عمران کو شناخت کرلیا۔

لیب رپورٹس کے مطابق 2020 سے 2025 تک سامنے آنے والے بدفعلی کے کیسز میں ایک ہی ڈی این اے کا بھی انکشاف ہوا ہے۔ رپورٹ سامنے آنے کے بعد ایڈیشنل آئی جی کراچی کے حکم پر اسپیشل انویسٹی گیشن ٹیم تشکیل دی گئی تھی۔

تقفتیشی ذرائع کے مطابق ملزمان عمران اور وقاص ایک بچے کو اغوا کرکے بدفعلی کے لیے سرجانی ٹاؤن لے گئے تھے۔ جہاں بچے کے شور مچانے پر علاقہ مکینوں نے دونوں کو پکڑ کر پولیس کےحوالے کردیا۔

سرجانی پولیس نے دونوں ملزمان کو تھانہ ٹیپو سلطان پولیس کے حوالے کردیا جہاں ملزمان کے خلاف بچے کے اغوا کا مقدمہ درج تھا۔

پولیس کا مزید کہنا ہے کہ ملزم عمران کے خلاف 2017 سے 2018 کے دوران پنجاب کے مختلف شہروں میں بھی اسی نوعیت کے 8 مقدمات درج ہیں۔

Related Posts