حرم شریف کی حدود میں سیکیورٹی اہلکار کی جانب سے معتمرین جوڑے پر تشدد کی ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہورہی ہے جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک سیکیورٹی اہلکار خاتون اور اس کے شوہر کو تشدد کا نشانہ بناتے ہوئے دھکے دیتا نظر آرہا ہے جس سے دنیا بھر کے مسلمانوں میں بے چینی اور غم و غصہ پیدا ہو رہاہے۔
کویت کے سوشل میڈیا انفلوئنسر محمود شاکر الفیلکاوی نے افسوسناک واقعے کی ویڈیو شیئر کرتے ہوئے کہا کہ میں چاہتا ہوں کہ اس قسم کے لوگوں کو حرم سے دور رکھا جائے وہ معتمرین (عمرہ ادا کرنے والوں) کے ساتھ ایسے برتاؤ کرتے ہیں جیسے وہ جانور ہوں اور ان کی کوئی عزت نہ ہو اور یہ سب سیکیورٹی کے نام پر کیا جا رہا ہے۔
اتمنى استبعاد هالنوعية من الحرم
يتعامل مع المعتمرين كأنهم غنم و ماعندهم كرامة بحجة التنظيم 🤷🏻♂️
و ينسى انه في اطهر بقاع الارض و هؤلاء معتمرين يبحثون عن الأجر والثواب والمغفرة pic.twitter.com/6LI2umh8nB
— محمود شاكر الفيلكاوي (@ALFAILEKAWE) November 3, 2025
محمود شاکر الفیلکاوی نے کہا کہ سیکیورٹی کے نافذ اہلکار بھول جاتے ہیں کہ وہ زمین کے سب سے پاک و مقدس مقام پر موجود ہیں اور یہ معتمرین اللہ کا اجر، ثواب اور مغفرت حاصل کرنے آئے ہیں۔
محمود شاکر الفیلکاوی کی ٹوئٹ پر ایک سعودی شہری نے کہا کہ ایک دن حرم میں ڈیوٹی کرو اور دیکھو کہ تمہیں کون سے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے پھر دیکھتے ہیں کہ آپ کیا کر سکتے ہو اور میں اس اہلکار کے ساتھ کھڑا جو ایسے معتمرین کو سزائیں دینا بنتا ہے۔
محمود شاکر الفیلکاوی نے کہا کہ کیا یہ تمہیں اجازت دیتا ہے کہ ڈیوٹی کا دباؤ معتمرین پر نکالو؟ اور کیا مردانگی یہ ہے کہ عورت پر اس طرح حملہ کیا جائے؟
حرم مکی میں بیت اللہ کے سامنے سیکیورٹی اہلکار کا ایک معتمر جوڑے کیساتھ بدسلوکی کا ایک افسوسناک منظر جس نے سوشل میڈیا میں بڑے پیمانے پر تنازع کو جنم دیا ہے…
حرم مکی، جو امن اور احترام کا مقام ہے،
وہاں اس طرح کا سلوک ہونا دین اور اخلاق کے معیارات کے خلاف ہے۔ pic.twitter.com/be5uDa7JiK— Asad _ منصور (@Asad_Journal01) November 3, 2025
جبکہ دوسری جانب پاکستانی سوشل میڈیا صارفین نے افسوسناک واقعے پر گہرے غم و غصے کا اظہار کیا۔ ایک صارف نے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان آل سعود سے اپیل کی اس پولیس والے کو برطرف کرنے سے پہلے ضیوف الرحمن کے ساتھ بدسلوکی اور عوام کے سامنے کئے گئے بدترین جرم پر عوام ہی کے سامنے معافی مانگنے کی سزا بھی دی جانی چاہیئے تاکہ اس طرح پولیس کے مظالم کے عام ماحول کو ختم کرنے میں مدد ملے گی اور خود احتسابی کی فضا بھی بنے گی۔
فعلا هو ده النضباط pic.twitter.com/9UJPQZNLzr
— Ezzoo koki (@EEzzatmahmoud) November 4, 2025
واضح رہے کہ حرم شریف اور مسجد نبوی میں اکثر و بیشتر اس طرح کے واقعات رونما ہوتے ہیں جس میں سیکیورٹی پر تعینات اہلکار تشدد کرتے نظر آتے ہیں جبکہ اس موقع پر خواتین کا احترام بھی نہیں کیا جا تا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








