پاکستان میں بے حیائی کا طوفان بے قابو، سوشل میڈیا پر شرمناک ویڈیوز کی بھرمار، بچے اس پوسٹ سے دور رہیں

تازہ ترین

تازہ ترین

Vulgar Content Spreads on Pakistani Social Media
ONLINE

پاکستان میں انٹرنیٹ پر فحاشی، عریانی اور بے حیائی کا طوفان بے قابو ہو چکا ہے، ٹک ٹاک، لائیکی، بنگو، فیس بک، یوٹیوب، انسٹاگرام اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر روزانہ سیکڑوں لائیو ویڈیوز نشر کی جاتی ہیں جن میں نازیبا گفتگو، فحش حرکات اور اخلاق سوز مناظر عام ہو چکے ہیں۔

یہ مواد نہ صرف عوامی سطح پر دستیاب ہے بلکہ نوجوان نسل میں تیزی سے مقبول بھی ہو رہا ہے اور افسوسناک بات یہ ہے کہ ملک کے تمام متعلقہ ادارے، جن میں ایف آئی اے، پی ٹی اے، سائبر کرائم ونگ اور فائر وال سسٹم شامل ہیں، مکمل خاموشی اور بے حسی کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر اب فحاشی کو ایک ڈیجیٹل کاروبار میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔ لائیو سیشنز میں مرد و خواتین غیر اخلاقی انداز میں پرفارم کرتے ہیں اور ناظرین انہیں گفٹس کے ذریعے پیسے بھجواتے ہیں۔ یہ گفٹس دراصل ایک باقاعدہ مالی لین دین ہوتا ہے جس کے بدلے میں پرفارمر مزید فحش حرکات کرتا ہے یا نازیبا زبان استعمال کرتا ہے۔

اس سلسلے میں چند نمایاں نام بھی سوشل میڈیا پر روزانہ کی بنیاد پر نظر آتے ہیں جنہوں نے لاکھوں فالوورز جمع کر رکھے ہیں، اور وہ ان پلیٹ فارمز کو استعمال کرتے ہوئے شہوانی اور لغو مواد نشر کرتے ہیں۔

ان میں ڈاکٹر ایمان، صوفی گجراتن، صبا شاہ، تنظیم ہنجرہ، بلی شلی، شکیل مہر، سنزیلہ خان، عائزہ خان، خلیل، چاچا منیر، مریم، نمرہ، سنبل ملک، سارا، ملنگ، سیم آئزل، سینوریٹا، شیبا، علی بھائی، چاند، مومی، ماہ نور، وسیم، حیدر شاہ اور جیا راجپوت سمیت دیگر ٹک ٹاکر شامل ہیں۔

یہ افراد اپنے لائیو سیشنز میں انتہائی نازیبا، اخلاق سوز اور فحش حرکات و سزائیں انجام دیتے ہیں جن میں اخلاقیات کی تمام حدیں پامال کی جاتی ہیں۔

پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی ، وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے ) اور سائبر کرائم ونگ جیسی ذمہ دار ایجنسیاں مکمل خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں۔ نہ کسی کے خلاف کاروائی ہو رہی ہے نہ کسی کو بلاک کیا جا رہا ہے، نہ ہی ان پلیٹ فارمز کو مانیٹر کیا جا رہا ہے۔

عوامی حلقے اس بات پر شدید غصے اور افسوس کا اظہار کر رہے ہیں کہ اگر فحاشی سرعام ہو رہی ہے تو یہ ریاستی ادارے کہاں ہیں؟ کیا صرف عام شہریوں کو پکڑنا ہی قانون کی عملداری ہے؟ بڑے اور مشہور فحش مواد پھیلانے والے کیوں محفوظ ہیں؟

سنجیدہ حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر اس صورتحال پر قابو نہ پایا گیا تو آنے والی نسلیں مکمل اخلاقی تباہی کا شکار ہو جائیں گی۔ مذہبی رہنماؤں اور سماجی شخصیات نے حکومت اور متعلقہ اداروں سے فوری کارروائی کا مطالبہ کیا ہے تاکہ معاشرتی اقدار کو مزید برباد ہونے سے روکا جا سکے۔

متعلقہ ویڈیوز اور شواہد:

  1. TikTok Live Punishment Match 

  2. Bingo Live Vulgarity Report

  3. TikTok Live Punishment Gift Culture

Related Posts