پوری دنیا روایتی کرنسی کے بجائے الیکٹرانک کرنسی اور اب کرپٹو کی طرف مائل ہورہی ہے لیکن افسوس کی بات تو یہ ہے کہ پاکستان میں کرپٹو کرنسی کے حوالے سے تاحال حکومت کوئی واضح پالیسی بنانے میں ناکام رہی ہے۔
تاہم عوام اب بھی پاکستان میں کرپٹو کرنسی خاص طور پر بٹ کوئن کا مستقبل دکھائی نہیں دے رہا۔
پاکستان میں بٹ کوائن: پاکستان کے معروف سوشل میڈیا ایکٹوسٹ وقار ذکاء کا کہنا ہے کہ کرپٹو کرنسی میں سرمایہ کاری کرنے والے پاکستانی چاہے وہ ملک میں ہوں یاسمندر پار مقیم ہوں وہ رقوم ڈالر کی صورت میں کرپٹو ایکس چینج میں لگاتے ہیں لیکن اس کا پاکستان کو کوئی فائدہ نہیں ہوتا کیونکہ کرپٹو کرنسی کا ایکس چینج پاکستان میں نہ ہونے سے عوام کو نقصان اٹھانا پڑتا ہے اور ملک کا قیمتی زرمبادلہ غیر ملکی کمپنیوں کے پاس چلا جاتا ہے۔
اس کے برعکس وقار ذکاء پاکستان میں کرپٹو ایکس چینج بناناچاہتے ہیں جو اسٹیٹ بینک اور ایس ای سی پی سے رجسٹرڈ ہو جس کے تحت پاکستانی خود براہ راست سرمایہ کاری کرسکیں بلکہ دنیا بھر سے ڈالر کی صورت میں سرمایہ کاری کی وجہ سے پاکستان کی معیشت کوبھی سہارا دیا جاسکتا ہے۔
وقار ذکاء کے مطابق پاکستان میں کرپٹو کی سہولت فراہم کرنے والے ایکس چینجز کو بند کرنے کے بجائے انہیں مستقل کردیا جائے تو وہ بخوشی پاکستان میں سہولیات فراہم کرسکتے ہیں اور اس مد میں پاکستانی گورنمنٹ ان سے پیسے بھی لے سکتی ہے، جس طرح حال ہی میں ترکی کے صدر رجب طیب اردگان نے کرٹپو ایکسچینج پر کئی ملین ڈالرز کا فائن کیا اور اُن ایکسچینج کو کہا کہ وہ یہ فائن بھریں اور اپنی سروسز ملک میں جاری رکھیں، اسی طرح پاکستانی گورنمنٹ بھی یہ فائن لگا سکتی ہے اور یہ کرپٹو ایکسچینج پاکستان کو یہ فائن دیں گے جوکہ پاکستان کے زر مبادلہ کو بڑھائیں گے۔
کرپٹوکرنسی: بٹ کوئن کو ایک کرپٹوکرنسی سمجھا جاتا ہے، اس کا مفہوم یہ ہے کہ یہ کرنسی بنیادی طور پر رازداری کے اصولوں کو ملحوظ رکھتی ہے۔ نیز اسے اپنی نوعیت کی واحد کرنسی سمجھا جاتا ہے، لیکن درحقیقت کرپٹو کرنسی کے کوائن ہزاروں کی تعداد میں انٹرنیٹ پر موجود ہیں، چونکہ بٹ کوئن ایک آزاد مصدر کرنسی ہے، اس لیے اس کی نقل اور اس میں کچھ اصلاحات کرکے دوسری نئی کرنسی بنائی جاسکتی ہے، اس لیے اس وقت موجود تمام کرپٹوکرنسیاں بٹ کوئن کی طرح ہی کام کرتی ہیں۔
بٹ کوئن کیا ہے: بٹ کوئن کا آغاز 2008ء میں ستوشی ناکاماتو نے کیا،یہ کرنسی حسابی عمل لوگرتھم کی بنیاد پر کام کرتی ہیجس کے لیے کمپیوٹر کو انٹر نیٹ سے منسلک کر کے کمپیوٹر کے پروسیسر سے کام لیا جاتا ہے جس کمپیوٹر کا پروسیسر جتنا طاقتور ہوتا ہے، اتنی جلد وہ حسابی عمل لوگرتھم کا سوال حل کرکے بٹ کوائن بناتا ہے۔
بٹ کوئن کمانے یا حاصل کرنے میں کسی شخص یا کسی بینک کا کوئی اختیار نہیں۔ یہ مکمل آزاد کر نسی ہے، جس کو ہم اپنے کمپیوٹر کی مدد سے بھی خود بنا سکتے ہیں۔بٹ کوئن کرنسی کا دیگر رائج کرنسیوں مثلا ڈالر اور یورو سے موازنہ کیا جاسکتا ہے، لیکن رائج کرنسیوں اور بٹ کوئن میں کچھ فرق ہے۔
بٹ کوئن اوردیگرکرنسیوں میں فرق: بٹ کوئن کرنسی کا دیگر رائج کرنسیوں مثلاً ڈالر اور یورو سے موازنہ کیا جاسکتا ہے لیکن رائج کرنسیوں اور بٹ کوئن میں کچھ فرق ہے۔سب سے اہم فرق یہ ہے کہ بٹ کوئن مکمل طور پر ایک ڈیجیٹل کرنسی ہے جس کا وجود محض انٹرنیٹ تک محدود ہے، خارجی طور پر اس کا کوئی جسمانی وجود نہیں۔
اسی طرح بٹ کوئن کرنسی کے پیچھے کوئی طاقتور مرکزی ادارہ مثلاً مرکزی بینک نہیں ہے اور سوائے ایک ملک (ال سلواڈور) کے کسی حکومت نے اب تک اسے جائز کرنسی قرار نہیں دیا ہے، اسی وجہ سے امریکا کے وزارت خزانہ نے اسے غیر مرکزی کرنسی قرار دیا ہے کیونکہ اس کرنسی کو ایک شخص براہ راست دوسرے شخص کو منتقل کر سکتا ہے، اس کے لیے کسی بینک یا حکومتی ادارہ کی ضرورت نہیں ہوتی۔ تاہم انٹرنیٹ کے ذریعہ بٹ کوئن کو دیگر رائج کرنسیوں کی طرح ہی استعمال کیا جاسکتا ہے۔
بٹ کوائن ایکسچینج: اطلاعات یہ ہیں کہ دنیا کے چند بڑے ایکسچینج جو بٹ کوائن کی خرید و فروخت کرتے ہیں،عام طور پر بٹ کوائن کے لین دین پر بہت معمولی چارج کیا جاتا ہے جوکہ دیگر بینکوں کے مقابلے میں نہایت کم ہے، اور بہت جلد اس کی رقم منتقل ہوجاتی ہے، کچھ کمپنیاں ہفتے کے ساتوں روز چوبیس گھنٹے پیسوں کا انتظام کرنے میں صارفین کی مدد کے لئے خودکار کرپٹو ٹریڈنگ حل کی تجویز پیش کررہی ہیں۔
اسٹیٹ بینک آف پاکستان: میڈیا رپورٹس کے مطابق اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے حالیہ ماہ کے آغاز میں جاری کیے گئے ایک رسمی مراسلے میں عوام کو بِٹ کوائن سمیت تمام قسم کی کرپٹو کرنسیوں سے بچنے کی ہدایت کی ہے۔ مراسلے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ان کرنسیوں یعنی کوائنز اور ٹوکنز کے ذریعے پاکستان سے باہر رقم بھیجنے والے کسی بھی شخص سے ملکی قوانین کے مطابق بازپرس کی جائے گی۔
بٹ کوائن کا مستقبل: معروف مالیاتی ادارے اور انوسٹمنٹ بینکنگ کمپنی ”گولڈ مین سیچز“ کے مبصرین نے دعویٰ کیا ہے کہ صارفین کو بھیجے گئے اپنے ایک ریسرچ نوٹ میں گولڈ مین سیچز کے مبصرین کا کہنا تھا کہ ہر گزرتے دن کے ساتھ کرپٹو کرنسیاں اور ڈیجیٹل اثاثہ جات اپنی قدر میں اضافہ کر رہے ہیں جبکہ سرمایہ کار بھی تیزی کے ساتھ ایسے اثاثہ جات میں دلچسپی کا اظہار کر رہے ہیں اس لئے جدید دور میں سونے کی جگہ بٹ کوائن لے سکتا ہے۔
ہماری ترجیحات: پاکستان تحریک انصاف کی حکومت ملک میں ڈیجیٹل اصلاحات اور روزگاری کی فراہمی کیلئے کوشاں رہی ہے تو ایسے میں کرپٹو کرنسیوں کو قانونی شکل دیکر حکومت ملک میں ڈیجیٹل ترقی کے ساتھ ساتھ روزگار کی فراہمی کا منصوبہ بھی مکمل کرسکتی ہے کیونکہ کرپٹو میں کام کرنے کیلئے لوگوں کو کہیں باہر جانے کی ضرورت نہیں ہوتی بلکہ یہ کام گھر میں بیٹھی خواتین و ناخواندہ لوگ بھی آسانی کرسکتے ہیں ۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت ملک میں کرپٹو کرنسی کا مستقبل محفوظ بنائے تاکہ بھاری زرمبادلہ غیر ملکی ایکس چینج کمپنیوں کو دینے کے بجائے پاکستان کی معیشت پر لگایا جاسکے۔حکومت کو یہ بات مد نظر رکھنی چاہیے کہ اگر پاکستان میں کرپٹو ایکس چینج بنانے میں رکاوٹ درپیش آئی تو وقار ذکاء دنیا کے کسی بھی ملک میں ایکس چینج بناسکتے ہیں لیکن اس سے حکومت پاکستان کو کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔