مشہور ٹک ٹاکر وردہ ملک نے حال ہی میں ان دعوؤں کی حقیقت پر کھل کر بات کی ہے جن میں کہا جاتا ہے کہ سوشل میڈیا اسٹار ایک دن میں ایک کروڑ روپے تک کما لیتے ہیں۔
انہوں نے اپنی حقیقی آمدنی، ذاتی تجربات اور مجبوریوں کا ذکر کرتے ہوئے اس گلیمرس دنیا کے پیچھے کی حقیقت کو نمایاں کیا۔
ایک پوڈ کاسٹ میں وردہ ملک نے بتایا کہ اگر وہ 25 ہزار کی نوکری کرتی رہتیں تو نہ ان کے بہن بھائیوں کی شادیاں ہو پاتیں، نہ والد کے بائی پاس کا علاج ممکن ہوتا اور نہ ہی والدہ کی دوائیوں کا خرچ پورا ہو سکتا۔
انہوں نے بتایا کہ گھر کی مالی مشکلات کے باعث انہیں ٹک ٹاک پر ناچ گانے والا کونٹینٹ بنانے پر مجبور ہونا پڑا۔ جب بہن بھائیوں کی شادیوں کے لیے پیسے نہیں تھے تو انہوں نے مجبوراً یہی راستہ اختیار کیا اور جب والد کی سرجری کا وقت آیا تو یہی کونٹینٹ ان کی امید کا واحد ذریعہ تھا۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا پاکستان میں صرف وہی غریب ہیں؟ کیا ملک میں موجود ہر دوسرا خاندان اسی طرح کے مسائل سے دوچار نہیں؟ اگر ایسا ہے تو کیا ہر عورت اسی مجبوری میں ناچ گانے کا راستہ اختیار کرے؟ انہوں نے یہ بھی کہا کہ پاکستان میں 1 کروڑ سے زیادہ ایسی خواتین ہیں جن کی عمر 35 سال سے بڑھ گئی مگر ان کی شادی نہیں ہوئی، مگر انہوں نے ایسا راستہ نہیں چنا۔
کئی ادارے ایسے ہیں جو غریب گھرانوں کی شادیاں مفت کراتے ہیں تو اگر شادی کے خرچ کا بہانہ ہے تو یہ قابلِ قبول نہیں۔ اسی طرح والد کے بائی پاس کی سہولت بڑے شہروں میں سرکاری سطح پر بھی موجود ہے، لہٰذا اس کو بھی محض بہانہ قرار دیا جا رہا ہے۔
ناقدین کے مطابق اب جبکہ وردہ ملک کے مسائل حل ہو چکے ہیں، گھر بھی ہے، گاڑی بھی ہے، والدین خوشحال ہیں، تو پھر ٹک ٹاک پر ناچ گانے کا سلسلہ کیوں جاری ہے؟ وہ سمجھتے ہیں کہ ایسی ٹک ٹاکرز اپنے پسندیدہ گلیمرس کانٹینٹ کو چھوڑنا ہی نہیں چاہتیں اور ڈرامائی بیانیہ استعمال کرتی رہتی ہیں۔
وردہ ملک نے 2020 میں کووڈ کے دوران سوشل میڈیا کا سفر شروع کیا۔ اس سے قبل وہ اسٹائلسٹ اور ہیئر ڈریسر کے طور پر کام کر چکی تھیں۔ ان کی ویڈیوز وائرل ہوئیں اور وہ جلد ہی مشہور ہو گئیں۔
آج ان کے ٹک ٹاک پر 5.5 ملین جبکہ انسٹاگرام پر تقریباً پانچ لاکھ فالوورز ہیں۔ وہ اپنے لپ سنک اور مزاحیہ انداز کی وجہ سے پہچانی جاتی ہیں اور اکثر اپنے ٹک ٹاکر دوستوں کے ساتھ ویڈیوز بناتی ہیں۔
حال ہی میں انہوں نے ریحان طارق کے پوڈکاسٹ میں شرکت کی جس میں انہوں نے انفلواینسرز کی آمدنی سے متعلق بے تحاشا دعوؤں کا حقیقی پہلو بیان کیا۔
اپنے بارے میں بات کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ ایک وقت ایسا بھی آیا جب انہیں دبئی چھوڑ کر پاکستان آنا پڑا اور یہاں 25 ہزار کی جاب کرنی پڑی۔ لمبے اوقاتِ کار کے باوجود ان کی آمدنی ناکافی تھی۔
انہوں نے بتایا کہ اب وہ الحمدللہ اتنا کما لیتی ہیں کہ انہیں کسی سے مانگنے کی ضرورت نہیں اور اپنے والدین کا اچھا خیال رکھ سکتی ہیں۔
انہوں نے اعتراف کیا کہ وہ 25 ہزار کی تنخواہ میں کبھی گھر یا گاڑی نہیں بنا سکتیں جبکہ جو کچھ بنایا ہے وہ قسطوں میں بنایا ہے۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ وہ مہینوں میں کروڑوں نہیں کماتیں اور ایک دن میں کروڑ کمانا کسی عام ٹک ٹاکرز کے لیے ممکن نہیں۔
انہوں نے کہا کہ اس قدر بڑی رقم اکثر کالا دھن سفید کرنے کے معاملات سے جڑی ہوتی ہے، اگرچہ انہوں نے خود اس کا تجربہ نہیں کیا مگر حقیقت ہمیشہ اتنی آسان نہیں ہوتی۔ وردہ ملک نے بتایا کہ وہ ماہانہ 6 سے 7 لاکھ کماتی ہیں جبکہ سب سے زیادہ ان کی آمدنی 10 لاکھ رہی ہے۔
پوڈکاسٹ کے دوران ایک اور بحث اس وقت سامنے آئی جب ریحان طارق نے وردہ ملک کی ایک ویڈیو چلا کر پوچھا کہ کیا یہ کونٹینٹ جسٹیفائیڈ ہے؟ اس پر وردہ نے جواب دیا کہ وہ ڈانس کرنا پسند کرتی ہیں اور ان کے مطابق ویڈیو میں کوئی غلط چیز نہیں۔
میزبان نے ان کے لباس، ڈانس اور انداز پر سوال اٹھایا تو وردہ نے پلٹ کر پوچھا کہ آخر انہیں کس چیز سے مسئلہ ہے؟ بحث اس وقت مزید شدت اختیار کر گئی جب یہ سوال اٹھا کہ کیوں ہمیشہ خواتین ٹک ٹاکرز کو ہی نشانہ بنایا جاتا ہے؟ کسی مرد ٹک ٹاکر کو بلا کر کبھی نہیں پوچھا جاتا کہ وہ بغیر شرٹ کے کیوں ناچتے ہیں اور کیا وہ کونٹینٹ جسٹیفائیڈ ہے؟ ناقدین کے مطابق یہ دراصل ’عورت‘ سے مسئلہ ہے، نہ کہ ڈانس، لباس یا کونٹینٹ سے۔
انہوں نے کہا کہ اگر عورت ڈانس کرے تو اسے فوراً ’ڈیجیٹل طوائف‘ قرار دے دیا جاتا ہے مگر مردوں کے ناچنے پر کوئی سوال نہیں اٹھایا جاتا۔
انہوں نے یہ بھی پوچھا کہ آئین پاکستان میں ناچ گانے کی ممانعت کہاں درج ہے؟ اور اگر یہ جرم ہے تو اس کی کون سی دفعہ موجود ہے؟ ان کے مطابق اصل مسئلہ صرف یہ ہے کہ معاشرے کا ایک طبقہ عورت کو خودمختار اور اظہار کی آزادی کے ساتھ دیکھنا برداشت نہیں کر پاتا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








