صدر ٹرمپ پر قاتلانہ حملے کا منصوبہ تھا؟ سیکرٹ ایجنٹ کی فائرنگ سے مسلح شخص ہلاک

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ فائل)

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی نجی رہائش گاہ اور ریزورٹ مار اے لاگو میں ایک سنگین سیکیورٹی واقعہ پیش آیا جب ایک مسلح شخص نے حفاظتی حدود میں غیر قانونی طور پر داخل ہونے کی کوشش کی تاہم امریکی سیکرٹ سروس کے اہلکاروں اور پام بیچ کاؤنٹی شیرف آفس کے ایک ڈپٹی نے فوری کارروائی کرتے ہوئے مشتبہ شخص کو گولی مار کر ہلاک کر دیا۔

واقعہ اتوار کی صبح تقریباً ایک بج کر 30 منٹ بجے پیش آیا۔سیکرٹ سروس کے ترجمان انتھونی گگلیلمی کے مطابق مشتبہ شخص شمالی گیٹ کے قریب دیکھا گیا جہاں وہ شاٹ گن اور ایندھن کا کین اٹھائے ہوئے تھا۔ اہلکاروں نے اسے ہتھیار ڈالنے کا حکم دیا جس پر اس نے ایندھن کا کین گرایا لیکن شاٹ گن کو فائرنگ کی پوزیشن میں اٹھا لیا۔ اسی دوران سیکرٹ سروس کے دو ایجنٹس اور شیرف کے ڈپٹی نے فائرنگ کی جس کے نتیجے میں وہ موقع پر ہی ہلاک ہو گیا۔

اہم تفصیلات:

ہلاک ہونے والے شخص کی شناخت آسٹن ٹکر مارٹن کے نام سے ہوئی جو 21 سالہ اور شمالی کیرولائنا کے موور کاؤنٹی کا رہائشی تھا۔

اس کے اہل خانہ نے چند دن قبل اسے لاپتہ ہونے کی اطلاع دی تھی۔ تفتیش کاروں کا خیال ہے کہ وہ شمالی کیرولائنا سے نکل کر جنوب کی طرف آیا اور راستے میں شاٹ گن حاصل کی۔ اس کی گاڑی سے شاٹ گن کا باکس بھی برآمد ہوا۔

واقعے کے وقت صدر ٹرمپ اور ان کی اہلیہ میلانیا ٹرمپ واشنگٹن ڈی سی میں موجود تھے اور مار اے لاگو پر موجود نہیں تھے۔ اس واقعے میں کسی قانون نافذ کرنے والے اہلکار کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔

ایف بی آئی نے تفتیش سنبھال لی ہے، اور ملوث ایجنٹس کو معمول کے مطابق انتظامی چھٹی پر بھیج دیا گیا ہے۔ ابھی تک حملے کی کوئی واضح وجہ یا محرک سامنے نہیں آیا۔

یہ واقعہ 2024 کی صدارتی مہم کے دوران ٹرمپ پر مبینہ طور پر ہونے والے دو حملوں کے بعد سامنے آیا ہے جس نے سیکیورٹی کے مزید سخت اقدامات پر بحث کو بڑھا دیا ہے۔ حکام نے علاقے کے رہائشیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ اگر کوئی ویڈیو یا معلومات رکھتے ہیں تو فراہم کریں تاکہ تحقیقات میں مدد مل سکے۔

Related Posts