واٹر بورڈ کا شیر پاؤ ہائیڈرنٹ سے متعلق عدالت میں گمراہ کن رپورٹ جمع کرانےکا انکشاف

تازہ ترین

تازہ ترین

واٹر بورڈ کا شیر پائو ہائیڈرنٹ سے متعلق عدالت میں گمراہ کن رپورٹ جمع کرانےکا انکشاف
واٹر بورڈ کا شیر پائو ہائیڈرنٹ سے متعلق عدالت میں گمراہ کن رپورٹ جمع کرانےکا انکشاف

کراچی : ادارہ فراہمی و نکاسی آب نے عدالتی حکم کے مطابق شیرپاؤ ہائیڈرنٹ بند کرنے کے بجائے چلانا شروع کردیا، عدالت میں گمراہ کن رپورٹ جمع کرانےکا انکشاف،ٹھیکیدار سے انتظام واپس نہ لیا جاسکا۔

عدالت کی جانب سے شیر پاؤ ہائیڈرنٹ تاحکم ثانی بند کرنے کے احکامات جاری کئے گئے تھے تاہم واٹر بورڈ حکام نے عدالت کو گمراہ کن رپورٹ دیتےہوئے موقف اختیا رکیا ہے کہ پانی کی قلت کے سبب واٹر بورڈ مذکورہ ہائیڈرنٹ کو خود چلائے گا۔

باوثوق ذرائع کا کہنا ہے کہ ابھی تک ہائیڈرنٹ کا انتظام پرانے ٹھیکیدار کے پاس ہی ہے اورواٹربورڈ کے سابق بااثر ٹھیکیدار بلا ل اپنی کمپنی ڈبل اے بلڈرز اینڈ ڈویلپرز اور سفاری میسرز ٹرانسپورٹ اور اپنے ملاز مین کے ذریعے ہی ہائیڈرنٹ چلا رہے ہیں۔

واٹربورڈ ہائیڈرنٹ سیل کے انچارج نعمت اللہ مہر نے اپنی ناجائزآمدنی کو بڑھاتے ہوئے مذکورہ ہائیڈرنٹ کے حوالے سے عدالت میں گمراہ کن رپورٹ کرائی ہے کہ ہائیڈرنٹ کو واٹر بورڈ خود چلا رہا ہے تاکہ علاقے میں پانی کی کمی نہ ہو ۔

واضح رہے کہ کسی بھی ہائیڈرنٹ کو چلانے کے لئے کم از کم ایک شفٹ میں 25سے زائد افرا د رکار ہوتے ہیں اور دونوں شفٹوں میں کم از کم 50افراد رکار ہوتے ہیں جبکہ واٹربورڈ نےعدالت کو گمراہ کرنے کے لئے جعلسازی سے صرف چند ملازمین کو شیر پاؤ ہائیڈرنٹ پر تعینات کیا ہے اوربقیہ اسٹاف پرانے ٹھیکیدار کا ہی ہے اور حساب کتاب بھی اسی کمپنی کے افراد کررہے ہیں جبکہ واٹربورڈ کی جانب سے ہائیڈرنٹ کے اسٹاف میں سمیر ، زاہد ،فہیم اورچاچڑ کا اضافہ کیا گیاہے ۔

یاد رہے کہ مذکورہ ہائیڈرنٹ سے ابھی تک کمرشل ٹینکر بھی بھرے جارہے ہیں اور بڑے ٹرالر بھی بھرے جارہے ہیں جبکہ واٹربورڈ جنرل پبلک سروس (جی پی ایس )کے علاوہ کمرشل ٹینکر فروخت نہیں کر سکتا ہے جبکہ ٹھیکیدار کو45فیصدکمرشل ٹینکر سروس کی اجازت ہوتی ہے۔

اپنے دعوے کے مطابق واٹربورڈ مذکورہ ہائیڈرنٹ کی یومیہ ریکوری کے لئے کوئی علیحدہ بینک اکاؤنٹ ہی نہیں کھلواسکا جس کی وجہ سے مذکورہ ہائیڈرنٹ سے آنیوالا یومیہ لاکھوں روپے کاریونیو کس اکاؤنٹ میں جا رہا ہے اس حوالے سے خود ہائیڈرنٹ سیل کے پاس بھی کوئی جواب نہیں ہے۔

ایم ایم نیوز کے سروے کے مطابق شیر ہاؤ ہائیڈرنٹ پر اس وقت 6سے 7 نل لگے ہوئے ہیںجو18سے 22گھنٹے چلائے جارہے ہیں ، جہاں اب صرف جنرل پبلک سروس (جی پی ایس )کی سادہ پرچی استعمال کیا جارہی ہے جبکہ کمرشل ٹینکرزکے معاملات پرانے ٹھیکیدار کی ملی بھگت سے چلائے جارہے ہیں۔

سروے کے مطابق شیر پاؤ ہائیڈرنٹ سے 18 سے 22گھنٹوں میں کم از کم 700 سے 800 ٹینکر 2سے تین چکرلگاتے ہیں جن میں 3ہزار گیلن سےلیکر 6ہزار اور 10 ہزار گیلن کی گاڑیاں شامل ہیں ۔

اوسط اندازے کے مطابق ایک گاڑی اگر ایک چکرمیں 3ہزار گیلن پانی بھرواتی ہے تو تین چکروں میں 9ہزار گیلن اور 3ہزار گیلن کی گاڑی اگر تین چکر لگائے تو 63لاکھ گیلن پانی بیچا جاتا ہے یعنی 700گاڑیاں 18گھنٹے میں 63لاکھ گیلن فروخت کرتی ہیں،700روپے فلنگ چارجز کے حساب سے 40لاکھ 41ہزار روپے چارجز بنتے ہیں ۔

45فیصد کمرشل اور 55فیصد جی پی ایس کے حساب سے 3465چکر جی پی ایس اور2835کمرشل ٹینکر بنتے ہیں ۔ کمرشل پانی کی قیمت 19لاکھ 84ہزار روپے بنتی ہے جبکہ واٹربورڈ کل یومیہ ریونیو آنے والی رقم ایک لاکھ سے ڈیڑھ لاکھ روپےظاہر کررہا ہے۔بقیہ رقم کس مد میں کہا ں جارہی ہے، اس کا کوئی اندازہ نہیں ہے جبکہ محفوظ کی گئی ویڈیو کے مطابق واضح طور پر کمرشل ٹینکرہائیڈرنٹ سے نکلتے ہوئے دیکھے جاسکتے ہیں۔

مزید پڑھیں:

واٹر بورڈ کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر اور آڈیٹر کی کرپشن عروج پر پہنچ گئی

واٹر بورڈ کا NEKکے بجائے میانوالی کالونی میں کیماڑی ہائیڈرنٹ قائم

واٹر بورڈکا اسسٹنٹ ڈائریکٹر آڈٹ یومیہ لاکھوں روپے رشوت وصول کرنے لگا

واٹر بورڈ افسران کا کورنگی میں نمائشی کارروائیوں کیساتھ غیر قانونی کنکشن

معلوم رہے کہ واٹربورڈ ہائیڈرنٹ سیل کی جانب سے ہائیڈرنٹس کی نیلامی کا اشتہار جاری کیا گیا تھا جس میں درجنوں کمپنیوں نے اپنی بولی ظاہر کی تھی جن میں ایک کمپنی ایس ایس ایس کارپوریشن بھی شامل تھی جس نے شیر پاؤ ہائیڈرنٹ کے لئے بولی مسترد ہونے پرفیضان ایچ میمن ایڈووکیٹ کے ذریعے عدالت سے رجوع کیا تھا ۔

درخواست کی سماعت کے بعد سندھ ہائی کورٹ کے سنگل بنچ کے جسٹس سید حسن اظہر رضوی نے واٹربورڈ کو شیر پاؤ ہائیڈرنٹ کاٹھیکہ دینے پرحکم امتناعی جاری کردیا تھا تاہم واٹر بورڈ نے ہائیڈرنٹ بند نہیں کیا جس پر واٹر بورڈ کو توہین عدالت کا نوٹس بھیجا گیا جبکہ نعمت اللہ مہر سمیت دیگر افسران نے اپنا کمیشن بڑھانے کے لئے عدالت میں گمراہ کن رپورٹ جمع کروادی ہے۔

اس حوالے سے واٹربورڈ ہائیڈرنٹ سیل کے انچارج نعمت اللہ مہر سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے فون ریسیو نہیں کیا ۔واٹربورڈ کی جانب سے ہائیڈرنٹ پر تعینات کردہ ایکسین سمیر نے رابطہ کرنے پر بتایا کہ ہم جوبھی ٹینکر پانی فلنگ کراتے ہیں انہوں نےہمیں پے آرڈر دیئے ہوئے ہیں۔

18گھنٹوں میں ہم 10سے 12لاکھ گیلن پانی ٹینکروں کے ذریعے سپلائی کرتے ہیں جن میں جی پی ایس کے150سے 200 چکرجبکہ ڈپٹی کمشنر کے کوٹے کے تحت دو سے ڈھائی لاکھ گیلن پانی جاتا ہے اور 200 سے زائد کمرشل ٹینکردیتے جاتے ہیں ۔

سمیر کا کہنا ہے کہ ہمارے پاس اس وقت 5 سے 8 افراد واٹر بورڈ کی جانب سے تعینات ہیں جن میں اویس ،نعمت اور فرید کے علاوہ دیگر شامل ہیں ۔معلوم رہے کہ شیر پاؤ ہائیڈرنٹ کے کیس کی سماعت 8نومبر کوہونی تھی جو بوجوہ نہیں ہو سکی لیکن آئندہ سماعت جلد متوقع ہے۔

Related Posts