پھرہاری کے عوام کا حق چھیننے نہیں دیں گے، ارم فاطمہ ترک کا دوٹوک اعلان

تازہ ترین

تازہ ترین

پھرہاری، ہری پور: معروف سیاسی و سماجی رہنما ارم فاطمہ ترک نے پھرہاری گاؤں میں 800 کنال پہاڑ کی غیر قانونی اور غیر اخلاقی لیز کے خلاف عوامی جرگے میں شرکت کی اور عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا۔

ارم فاطمہ ترک کی تنظیم پاکستانی حوصلہ مند خواتین نیٹ ورک ماحولیاتی تحفظ اور تبدیلی کے حوالے سے سرگرم عمل ہے۔ وہ پاکستان کی پہلی خاتون ہیں جنہوں نے فرینچ کلائمیٹ اینڈ جینڈر ایوارڈ حاصل کیا۔

جرگے سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ کسی بھی صورت میں ذاتی مفاد کی خاطر عوام، ماحول اور قدرتی وسائل کی قربانی نہیں دی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ یہ صرف زمین کا نہیں بلکہ پورے علاقے کے مستقبل کا مسئلہ ہے۔ پہاڑ کی کٹائی سے نہ صرف ماحولیات کو شدید نقصان پہنچے گا بلکہ پانی کے ذخائر، رہائشی علاقوں اور ایک مقدس زیارت کے تحفظ کو بھی خطرہ لاحق ہو جائے گا۔

عوامی جرگے میں گاؤں کے معززین، نوجوانوں، اور مختلف سیاسی و سماجی شخصیات نے بھرپور شرکت کی۔ متفقہ طور پر اعلان کیا گیا کہ پھرہاری کے عوام کسی بھی صورت اس متنازعہ لیز کو قبول نہیں کریں گے اور اسے رکوانے کے لیے ہر ممکن قانونی اقدام اٹھایا جائے گا۔

ارم فاطمہ ترک نے یقین دلایا کہ وہ ہر سطح پر پھرہاری کے عوام کی آواز بنیں گی اور کسی کو بھی قدرتی وسائل کے استحصال اور مقامی لوگوں کے حقوق پامال کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

پھرہاری کے عوام متحد ہیں اور اپنے حقوق کے دفاع کے لیے ہر قانونی اور آئینی راستہ اختیار کریں گے تاکہ اپنے گاؤں کے قدرتی وسائل اور آنے والی نسلوں کے مستقبل کو محفوظ بنایا جا سکے۔

Related Posts