وویمن یونیورسٹی باغ کی بہتری کیلئے ہر ممکن مدد فراہم کریں گے،صدر آزاد جموں وکشمیر

تازہ ترین

تازہ ترین

وویمن یونیورسٹی باغ کی بہتری کیلئے ہر ممکن مدد فراہم کریں گے،صدر آزاد جموں وکشمیر
وویمن یونیورسٹی باغ کی بہتری کیلئے ہر ممکن مدد فراہم کریں گے،صدر آزاد جموں وکشمیر

اسلام آباد:آزاد جموں وکشمیر کے صدر بیرسٹر سلطان محمود چوہدری نے کہا ہے کہ وویمن یونیورسٹی باغ آزادکشمیر میں خواتین کے لئے واحد یونیورسٹی ہے لہذا ہم اس میں بہتری کے لئے ہر ممکن مدد فراہم کریں گے۔

اس میں مزید شعبہ جات بھی قائم کیے جائیں گے تاکہ معیار تعلیم بہتر ہو وہاں پر دور دراز علاقوں سے آنے والی طالبات بھی اعلیٰ تعلیم کے زیور سے آراستہ ہو سکیں۔ بنی پساری میں یونیورسٹی کی اپنی عمارت کو جلد پایا تکمیل تک پہنچایا جائے تاکہ کرائے کی مد میں دئیے جانے والے غیر ضروری اخراجات سے بچا جا سکے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے آج یہاں ایوان صدر کشمیرہاؤس اسلام آباد میں وویمن یونیورسٹی آف آزاد جموں وکشمیر باغ کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر عبدالحمید کی طرف سے جامعہ خواتین باغ پر دی جانے والی بریفنگ کے دوران خطاب کرتے ہوئے کیا۔

اس موقع پر بریفنگ دیتے ہوئے وائس چانسلر جامعہ خواتین آزاد جموں وکشمیر باغ نے یونیورسٹی کے محل وقوع،یونیورسٹی میں قائم شدہ شعبہ جات اور اساتذہ و طالبات کو درپیش مسائل، یونیورسٹی میں جاری تعمیراتی کام جن میں ہاسٹلز، اکیڈمک بلاک اور دیگر شعبہ جات کی عمارات کی تعمیر کے لئے فنڈز کی فراہمی کے لئے درپیش مسائل، یونیورسٹی کی آمدن، خرچ اور خسارے پر بھی صدر ریاست بیرسٹر سلطان محمود چوہدری کو بریفنگ دی۔

اس موقع پر وائس چانسلر نے بریفنگ دیتے ہوئے مزید بتایا کہ اس وقت یونیورسٹی میں طالبات کی تعداد تقریباً اڑھائی ہزار کے قریب ہے اور اسی طرح فیکلٹی کی تعداد ایک سو گیارہ جبکہ ایڈمنسٹریٹیو اسٹاف کی تعداد تقریباً ایک سو چھہتر کے قریب ہے۔

اسی طرح یونیورسٹی میں جاری پروگرامز کے ساتھ ساتھ نئے پروگرامز بھی متعارف کرائے جا رہے ہیں جس سے امید واثق ہے کہ یونیورسٹی میں طالبات کی تعداد میں خاطر خواہ اضافہ ہو جائے گا۔

مزید پڑھیں: آزاد کشمیر کے سابق صدر سردار سکندر حیات خان انتقال کر گئے

وائس چانسلر نے مزید کہا کہ ہم اس پربھی بھرپور توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں کہ معیار تعلیم پر کوئی سمجھوتہ نہ کیا جائے۔ اس موقع پر صدر آزاد جموں وکشمیر بیرسٹر سلطان محمود چوہدری نے یقین دلایا کہ وہ یونیورسٹی کے معاملات کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرانے کے لئے ہر فورم پر بات کریں گے۔

Related Posts