ملک بھر میں ہفتہ وار مہنگائی میں 13اعشاریہ 2فیصد کا اضافہ

تازہ ترین

تازہ ترین

ہفتہ وار مہنگائی
(فوٹو: جی این این)

اسلام آباد: ملک بھر میں ہفتہ وار مہنگائی میں 13 اعشاریہ 2فیصد کا اضافہ ہوا ہے جس کی وجوہات میں سبزیوں کی قیمتوں میں اضافہ شامل ہے۔

نجی ٹی وی ڈان نیوز کی رپورٹ  کے مطابق حساس قیمت انڈیکس (ایس پی آئی) سے پیمائش کردہ قلیل مدتی مہنگائی میں ایک ہفتے تنزلی کے بعد مسلسل دو ہفتے سے معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، مہنگائی کی شرح میں گزشتہ ہفتے کے مقابلے میں 0.44 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

رپورٹ کے مطابق مئی 2023 کے دوران ہفتہ وار مہنگائی کی شرح 48اعشاریہ 35فیصد رہی جبکہ اگست 2023 کے آخر تک یہ سطح 24اعشاریہ 4فیصد ہوگئی تھی۔ پھر 16نومبر کو مہنگائی بڑھ گئی تھی تاہم وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ جاری ہے۔

جن اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے ان میں ٹماٹر (18.51 فیصد)، پیاز (5.89 فیصد)، مرغی کا گوشت (3.72 فیصد)، گندم کا آٹا (3.63 فیصد)، لہسن (2.47 فیصد)، دال چنا (1.41 فیصد) ، ایل پی جی (0.98 فیصد) اور ماچس کا ڈبہ (0.97 فیصد) شامل ہیں۔

مہنگی ہونے والی اشیائے ضروریہ میں دال مونگ (0.92 فیصد)، سرسوں کا تیل (0.58 فیصد)، آگ جلانے والی لکڑی (0.51 فیصد) اور سگریٹ (0.10 فیصد) بھی شامل ہیں۔  گزشتہ ہفتے کے دوران جن اشیاء کی قیمتیں کم ہوئیں، ان میں انڈے (1.45 فیصد) اور  چینی (1.39 فیصد) شامل ہیں۔

سستی ہونے والی اشیائے ضروریہ میں ڈیزل (1.32 فیصد)، کیلے (1.29 فیصد)، آلو (1.08 فیصد)، پیٹرول (0.81 فیصد)، دال ماش (0.80 فیصد)، گڑ (0.59 فیصد)، باسمتی چاول ٹوٹا (0.53 فیصد) اور دال مسور (0.83 فیصد) شامل ہیں، تاہم سالانہ بنیادوں پر کافی مصنوعات کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ دیکھا گیا۔

جن مصنوعات کی قیمتوں میں سالانہ بنیادوں پر اضافہ ہوا، ان میں گیس چارجز برائے پہلی سہ ماہی (570 فیصد)، دال چنا (65.33 فیصد)، پیاز (43.49 فیصد)، ٹماٹر (41.58 فیصد)، خشک دودھ (25.36 فیصد)، گائے کا گوشت (24.97 فیصد) اور مرغی کا گوشت (24.90 فیصد) شامل ہیں۔

اسی طرح شرٹنگ (20.17 فیصد)، دال مونگ (16.29 فیصد)، نمک (15.38 فیصد)، اور انرجی سیور (12.87 فیصد) بھی سالانہ بنیادوں پر مہنگی ہونے والی اشیاء ہیں۔ اس کے برعکس گندم کی قیمت میں 35.67 فیصد کمی ہوئی، اس کے علاوہ پیٹرول (23.51 فیصد) اور ڈیزل (22.48 فیصد) سستا ہوا۔

علاوہ ازیں پسی مرچ (20 فیصد)، بجلی چارجز برائے پہلی سہ ماہی (13.47 فیصد)، چینی (12.65 فیصد)، خوردنی تیل 5 لیٹر (10.74 فیصد)، باسمتی چاول ٹوٹا (10.34 فیصد)، دال مسور (7.90 فیصد)، ویجیٹیبل گھی ڈھائی کلو گرام (6.40 فیصد)، گڑ (5.66 فیصد) اور ایل پی جی (3.94 فیصد)  بھی سستی ہوئی۔

Related Posts