کراچی کا جناح اسپتال ملک کا پہلا سرکاری اسپتال بننے جا رہا ہے جو کینسر کے مریضوں کو بایوپسی (خلیاتی تجزیے) کی ریئل ٹائم رپورٹس فراہم کرے گا۔
سندھ حکومت کے آئندہ مالی سال کے سالانہ ترقیاتی پروگرام (ADP) کے تحت جے پی ایم سی میں “کنفوکل انسٹنٹ ڈیجیٹل پیتھالوجی سسٹم” متعارف کروایا جا رہا ہے، جو ایک جدید ترین تشخیصی ٹیکنالوجی ہے۔ اس نظام کی مدد سے سرجنز دورانِ جراحی فوری طور پر ٹیومر (رسولی) کی موجودگی اور پھیلاؤ کا پتہ لگا سکیں گے۔
جے پی ایم سی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر پروفیسر شاہد رسول کے مطابق یہ جدید سہولت، جو اب تک صرف چند نجی اسپتالوں میں دستیاب تھی، مریضوں کے لیے بایوپسی نتائج کے حصول کا دورانیہ جو عموماً 14 سے 15 دن ہوتا ہے نمایاں طور پر کم کر دے گی۔
انہوں نے کہا کہ یہ انقلابی نظام جراحی کے دوران ہی سلائیڈز کی تیاری اور خلیوں کے نمونوں کے تجزیے کو ممکن بناتا ہے۔ اس سے سرجنز فوری فیصلہ کر سکیں گے کہ رسولی کہاں تک پھیلی ہے، جس کا براہِ راست فائدہ مریض کے علاج، صحتیابی اور سرجری کے خطرات میں کمی کی صورت میں ہوگا۔
اس منصوبے کے تحت 36 کروڑ 60 لاکھ روپے کی لاگت سے دو جدید تشخیصی یونٹ حاصل کیے جائیں گے۔ ایک یونٹ سرجیکل کمپلیکس میں نصب کیا جائے گا، جہاں جنرل سرجری، آرتھوپیڈکس، سینہ جراحی اور ای این ٹی (ناک، کان، گلا) جیسے شعبے مستفید ہوں گے، جبکہ دوسرا یونٹ گائنی وارڈ میں لگایا جائے گا تاکہ خواتین میں کینسر کی بہتر تشخیص ممکن ہو۔
اس نظام کی تنصیب نہ صرف تشخیص کو تیز تر بنائے گی بلکہ مریض کے بے ہوشی میں رہنے کے وقت کو بھی کم کرے گی اور سرجری کی کامیابی کی شرح میں اضافہ کرے گی۔ روایتی طریقے جیسے فریزنگ سیکشن یا کور بایوپسی وقت طلب ہوتے ہیں اور ان سے خطرات بھی بڑھ جاتے ہیں۔
یہ اقدام پاکستان کے سرکاری اسپتالوں میں کینسر کے علاج کو جدید خطوط پر استوار کرنے کی جانب ایک نمایاں پیش رفت ہے، جو عالمی معیار سے ہم آہنگ ہے اور ان ہزاروں مریضوں کے لیے امید کی کرن ہے جو پبلک ہیلتھ کے سرکاری نظام پر انحصار کرتے ہیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








