ناروے، مغربی ممالک نے طالبان حکومت سے مذاکرات کا آغاز کردیا

تازہ ترین

تازہ ترین

ناروے، مغربی ممالک نے طالبان حکومت سے مذاکرات کا آغاز کردیا
ناروے، مغربی ممالک نے طالبان حکومت سے مذاکرات کا آغاز کردیا

اوسلو: مغربی ممالک نے ناروے میں افغانستان کی طالبان حکومت سے مذاکرات کا آغاز کردیا جس کا مقصد افغان عوام کی معاشی مشکلات اور انسانی المیے کے خدشات کو دور کرنا ہے۔

تفصیلات کے مطابق رواں موسمِ سرما کے دوران افغانستان کے لاکھوں افراد بھوک کے باعث تکلیف دہ موت کے خدشات سے دوچار ہیں۔ ناروے کے شہر اوسلو میں بین الاقوامی مذاکرات شروع ہوگئے جن کی کامیابی پر افغان عوام کے مستقبل کا انحصار ہے۔ 

یہ بھی پڑھیں:

یوکرین پر حملے کا خدشہ، امریکا اور نیٹو ممالک کی فوج الرٹ کردی گئی

ناروے سمیت نیٹو اتحادی ممالک بشمول یورپی یونین طالبان کی زیر قیادت نئی افغانستان حکومت کو تسلیم نہیں کرتے جو گزشتہ برس اقتدار پر قابض ہوئی، تاہم افغانستان میں ممکنہ انسانی المیے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے مذاکرات کے آغاز کافیصلہ کیا گیا۔

اتوار کے روز امریکا کے خصوصی نمائندے تھامس ویسٹ نے اپنے ٹوئٹر پیغام میں کہا کہ ہم طالبان کے ساتھ اپنے تحفظات اور ایک مستحکم، انسانی حقوق کا احترام کرنے والے اور جامع افغانستان میں اپنی مستقل دلچسپی پر سفارت کاری جاری رکھیں گے۔

اوسلو میں شروع ہونے والے مذاکرات میں برطانیہ، فرانس، جرمنی، اٹلی اور یورپی یونین کے ساتھ ساتھ ناروے سے بھی سفارت کار شریک ہوئے۔ ناروے میں اپوزیشن پارٹی کا کہنا ہے کہ طالبان سے تعاون عسکریت پسندی کے استحکام کا باعث ہوگا۔

تاہم نارویجین وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ افغانستان کے 3کروڑ 90 لاکھ افراد معاشی تباہی اور خشک سالی کا شکار ہیں۔ اگر امداد بروقت نہ دی گئی تو 10 لاکھ بچے بھوک سے مر جائیں گے۔ رواں سال 97فیصد آبادی خطِ افلاس سے نیچے آسکتی ہے۔ 

Related Posts